ورلڈ بینک اور جرمن وفد کی بی آئی ایس پی ہیڈکوارٹرز آمد، مستحقین کے لیے صحت، غذائیت اور ہنرمندی کے پروگراموں پر غور
اسلام آباد(الفجرآن لائن) بینظیر انکم سپورٹ پروگرام (بی آئی ایس پی) کی چیئرپرسن سینیٹر روبینہ خالد کی صدارت میں دو اہم اعلیٰ سطحی اجلاس منعقد ہوئے، جن میں مستحق خاندانوں کے سماجی تحفظ، صحت، غذائیت اور ہنرمندی کے فروغ کے لیے عالمی شراکت داروں کے ساتھ باہمی تعاون کو مزید وسعت دینے پر اتفاق کیا گیا۔ پہلے اجلاس میں ورلڈ بینک کے ‘کرسپ’ ریویو مشن کے ساتھ پروگرام کی نگرانی کے نظام اور انسانی وسائل کی ضروریات کا جائزہ لیا گیا،
جبکہ دوسرے اجلاس میں جرمن ترقیاتی ادارے کے وفد سے ملاقات میں خیبر پختونخوا کے پسماندہ اضلاع میں صحت و غذائیت کے منصوبوں اور بینظیر ہنرمند پروگرام کے تحت نوجوانوں کو مختلف شعبوں میں فنی تربیت دینے کی حکمت عملی پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔سینیٹر روبینہ خالد نے نیشنل سوشل اکنامک رجسٹری کے ڈیٹا بیس کو پروگرام کی بنیاد قرار دیتے ہوئے اس کے تحفظ اور اپ ڈیٹ رکھنے کی ضرورت پر زور دیا تاکہ حقیقی مستحقین تک امداد پہنچائی جا سکے۔ انہوں نے وفد کے ساتھ ملاقات میں بالخصوص پشاور، چترال اور کوہستان میں صحت کے اقدامات شروع کرنے اور بی آئی ایس پی سے منسلک خاندانوں کو ہیلتھ کیئر، ہوم کیئر، کنسٹرکشن اور ہسپٹالٹی جیسے روزگار کے حامل شعبوں میں شارٹ کورسز اور سکل ٹریننگ فراہم کرنے کی اہمیت کو اجاگر کیا، جس پر دونوں جانب سے مستقبل میں مشترکہ لائحہ عمل اختیار کرنے پر مکمل اتفاق کیا گیا۔اگر آپ اس خبر میں مزید تبدیلیاں چاہتے ہیں، تو

