اسلام آباد (الفجرآن لائن) پمز اسپتال کی نیونیٹل نرسری میں پیش آنے والے افسوسناک آتشزدگی کے واقعے کی تحقیقات میں اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔
ذرائع کے مطابق انکوائری کمیٹی نے اسپتال کے 30 سے زائد ملازمین کے بیانات ریکارڈ کرلیے ہیں، جبکہ حادثے کے وقت ڈیوٹی پر موجود عملے کی موجودگی اور اسپتال کے حفاظتی انتظامات کا بھی تفصیلی جائزہ لیا جا رہا ہے۔
ذرائع کے مطابق انکوائری کمیٹی نے ایگزیکٹو ڈائریکٹر پمز اور جوائنٹ ایگزیکٹو ڈائریکٹرز کے بیانات بھی ریکارڈ کیے ہیں۔ کمیٹی نے ڈیوٹی پر موجود ڈاکٹروں اور نرسز سے بھی واقعے سے متعلق انفرادی بیانات لیے ہیں۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ چلڈرن اسپتال اور ایم سی ایچ میں تعینات 18 سیکیورٹی گارڈز کے بیانات بھی قلمبند کیے گئے ہیں۔ انکوائری کمیٹی نے پمز کے سربراہ سمیت متعلقہ عملے سے انفرادی طور پر تفصیلات حاصل کی ہیں،
جبکہ اسپتال عملے سے تحریری بیانات بھی طلب کر لیے گئے ہیں۔کمیٹی نے حادثے کے وقت آن ڈیوٹی عملے کی موجودگی کی تصدیق کے لیے بائیومیٹرک ریکارڈ بھی چیک کیا ہے۔
ذرائع کے مطابق تحقیقاتی ٹیم نے نیونیٹل نرسری کا معائنہ کرنے کے علاوہ موقع کی تصاویر اور ویڈیوز بھی بنائی ہیں تاکہ واقعے کے مختلف پہلوؤں کا جائزہ لیا جا سکے۔
انکوائری کمیٹی نے زچہ و بچہ اسپتال کے اولڈ اور نیو بلاک کے کوریڈورز کا بھی معائنہ کیا اور وہاں موجود حفاظتی انتظامات، آمدورفت کے راستوں اور ہنگامی صورتحال میں رسپانس سے متعلق امور کا جائزہ لیا۔
ذرائع کے مطابق انکوائری کمیٹی واقعے سے متعلق تمام شواہد، بیانات اور ریکارڈ کا جائزہ لینے کے بعد اپنی تحقیقاتی رپورٹ وزیراعظم کو پیش کرے گی

