کوئٹہ (الفجرآن لائن) وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے کہا ہے کہ ویمن انٹرپینورشپ ڈویلپمنٹ پروگرام کے تحت 600 خواتین کی تربیت مکمل ہونا ایک انتہائی خوش آئند اقدام ہے۔ سماجی رابطے کی ویب سائٹ ‘ایکس’ (سابق ٹوئٹر) پر جاری اپنے ایک بیان میں انہوں نے بتایا کہ پروگرام کے تحت 100 خواتین کو کاروبار کے آغاز کے لیے مالی معاونت بھی فراہم کی گئی ہے، جو صوبے کی خواتین کو اپنے پاؤں پر کھڑا کرنے کے حکومتی عزم کی عملی تصویر ہے۔
وزیراعلیٰ بلوچستان نے واضح کیا کہ صوبائی حکومت خواتین کو معاشی خودمختاری، ترقی، تعلیم اور خوشحالی کے یکساں مواقع فراہم کررہی ہے۔ ان کا کہنا تھا، "ہم چاہتے ہیں کہ بلوچستان کی ہر بیٹی کے ہاتھ میں ہنر، علم اور روزگار ہو، بارود نہیں”۔ انہوں نے عزم دہرایا کہ حکومت بلوچستان اپنی بیٹیوں کے روشن اور محفوظ مستقبل کے لیے ہر ممکنہ ذمہ داری پوری کرتی رہے گی۔میر سرفراز بگٹی نے دہشت گرد عناصر کی کارروائیوں پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ایک طرف حکومت خواتین کو بااختیار بنانے کے لیے مسلسل مواقع پیدا کر رہی ہے، تو دوسری جانب دہشت گرد بلوچ بچیوں کو خودکش بمبار بنا کر تاریکیوں کی دھکیل رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ دہشت گرد عناصر ہماری بچیوں کے مستقبل کو تباہی اور تشدد سے جوڑنا چاہتے ہیں، جبکہ ہم ان کے مستقبل کو تعلیم، ہنر اور خوشحالی سے جوڑ رہے ہیں۔اپنے پیغام کے آخر میں وزیراعلیٰ بلوچستان نے عوام پر زور دیتے ہوئے کہا کہ اب فیصلہ بلوچ عوام نے خود کرنا ہے کہ وہ اپنی بچیوں کا مستقبل تعلیم و ترقی میں دیکھتے ہیں یا دہشت گردی اور تباہی کی صورت میں

