لاہور (الفجرآن لائن )میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے محسن نقوی نے کہا کہ ملک کو قائم ہوئے 79 سال گزر چکے ہیں لیکن کئی شعبوں میں عوام اب بھی مطلوبہ نتائج سے محروم ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ نظام کا ازسرِنو جائزہ لے کر اسے زیادہ مؤثر اور عوامی ضروریات کے مطابق بنانا ضروری ہے۔وفاقی وزیر داخلہ نے وضاحت کی کہ ان کے نظام کو ری سیٹ کرنے کے بیان کی مختلف انداز میں تشریح کی گئی۔
بعض حلقوں نے اسے موجودہ حکومت اور سیاسی بندوبست کی تبدیلی سے جوڑا، حالانکہ ان کا مقصد کسی مخصوص حکومت یا جماعت کو ہٹانا نہیں بلکہ نظام میں موجود کمزوریوں کی نشاندہی اور ان کا حل تلاش کرنا ہے۔
محسن نقوی کے مطابق گزشتہ کئی دہائیوں کے دوران متعدد منصوبے اور پالیسیاں بنائی گئیں، مگر عام شہریوں کو تعلیم، صحت، صاف پانی اور صفائی جیسی بنیادی سہولیات کی مکمل اور مؤثر فراہمی اب بھی ایک اہم چیلنج ہے۔
انہوں نے کہا کہ نظام میں بہتری اور بہتر حکمرانی کے ذریعے عوامی مسائل میں کمی لائی جا سکتی ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ نظام میں کسی بھی قسم کی تبدیلی آئین اور قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے ہونی چاہیے اور اس کے لیے سیاسی اتفاقِ رائے ضروری ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ نظام کو ری سیٹ کرنے کا مقصد کسی چیز کو ختم کرنا نہیں بلکہ موجودہ ڈھانچے کو بہتر اور زیادہ مؤثر بنانا ہے۔نئے انتظامی یونٹس کے حوالے سے محسن نقوی نے کہا کہ ایسا فیصلہ کسی ایک فرد یا سیاسی جماعت کی خواہش پر نہیں ہونا چاہیے
بلکہ عوامی رائے کو ترجیح دی جانی چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ اگر عوام نئے انتظامی یونٹس کے قیام کی حمایت کرتی ہے تو اس خواہش کا احترام ہونا چاہیے، جبکہ عوام کی عدم رضامندی کی صورت میں ایسے یونٹس قائم نہیں کیے جانے چاہئیں۔

