
کراچی (الفجرآن لائن): یومِ دفاعِ پاکستان کے موقع پر مزارِ قائد، کراچی میں تبدیلیِ گارڈز کی پروقار تقریب منعقد ہوئی، جس میں دفاعِ وطن کی خاطر اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کرنے والے شہداء کو خراجِ عقیدت پیش کرنے کے ساتھ ساتھ بانی پاکستان، قائداعظم محمد علی جناحؒ کو بھی خراجِ تحسین پیش کیا گیا۔پاک فضائیہ اکیڈمی اصغر خان کے 72 ایوایشن کیڈٹس پر مشتمل چاق و چوبند دستے نے مزارِ قائد پر گارڈز کے فرائض سنبھال لیے۔ ایئر وائس مارشل حسن فیصل، ایئر آفیسر کمانڈنگ، پاک فضائیہ اکیڈمی اصغر خان تقریب کے مہمانِ خصوصی تھے۔

تقریب کا آغاز تلاوتِ کلامِ پاک اور شہدائے وطن کے لیے خصوصی دعاؤں سے ہوا، جنہوں نے مادرِ وطن کے دفاع کی خاطر اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا۔ مہمانِ خصوصی نے مزارِ قائد پر پھولوں کی چادر چڑھائی، فاتحہ خوانی کی اور مہمانوں کی کتاب میں اپنے تاثرات قلمبند کیے۔ اس موقع پر انہوں نے قائدِاعظم کے لازوال نظریے ، اُصول پسند قیادت اور قومی جدوجہد کے لیے گہری عقیدت و احترام کا اظہار کیا۔اپنے خطاب میں ایئر وائس مارشل حسن فیصل نے کہا کہ 6 ستمبر ہمیں اُس تاریخی دن کی یاد دلاتا ہے جب پاکستان کی مسلح افواج نے دشمن کے ناپاک عزائم کو خاک میں ملاتے ہوئے بے مثال جرات، عزم اور بہادری کے ساتھ وطنِ عزیز کا دفاع کیا۔ شہدائے وطن کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ 1965 اور 1971 کی جنگوں سے لے کر معرکہ حق تک، پاک فضائیہ نے ہمیشہ پاکستان کے باہمت اور ثابت قدم عوام کی توقعات پر پورا اترتے ہوئے ملکی سلامتی کو اپنی اولین ذمہ داری سمجھا ہے۔
انہوں نے کہا کہ معرکہ حق نظم و ضبط، باہمی تعاون اور بروقت فیصلہ سازی کا شاندار مظہر تھا، جس میں تمام عناصر کو مؤثر انداز میں یکجا کرتے ہوئے پاکستان نے جارحیت کا منہ توڑ جواب دیا اور فیصلہ کن کامیابی حاصل کی۔پاکستان کے دفاع کے لیے پاک فضائیہ کے غیر متزلزل عزم کا اعادہ کرتے ہوئے ایئر آفیسر کمانڈنگ نے یقین دلایا کہ ملک کی فضائی حدود کا دفاع پاک فضائیہ کے باصلاحیت، پُرعزم اور پیشہ ور شاہینوں کے مضبوط ہاتھوں میں ہے۔ انہوں نے کہا کہ سربراہ پاک فضائیہ ایئر چیف مارشل ظہیر احمد بابر سدھو کی بصیرت افروز قیادت میں پاک فضائیہ ایک نیکسٹ جنریشن فضائی قوت میں ڈھل چکی ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ جدید اور ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز، جدید ہتھیاروں کے نظام، خلائی و سائبر صلاحیتوں، مصنوعی ذہانت اور انفارمیشن ٹیکنالوجی کے میدان میں ہونے والی پیش رفت، جدید ترین بنیادی ڈھانچے اور کثیرالجہتی جنگی صلاحیتوں کے امتزاج نے پاک فضائیہ کی آپریشنل تیاری اور دفاعی استعداد کو مزید مستحکم کیا ہے۔ایئر وائس مارشل حسن فیصل نے اس امر پر زور دیا کہ اگرچہ جدید ٹیکنالوجی پاک فضائیہ کی دفاعی صلاحیتوں میں اضافے کے لیے کلیدی کردار ادا کرتی ہے، تاہم پاک فضائیہ کی اصل طاقت اس کے باہمت جانباز ، پیشہ ورانہ مہارت، اعلیٰ معیار کی تربیت اور بروقت و درست فیصلے کرنے کی صلاحیت میں پنہاں ہے۔
پاکستان کے اصولی مؤقف کا اعادہ کرتے ہوئے، ایئر وائس مارشل حسن فیصل نے کہا کہ پاکستان خطے میں پائیدار امن اور استحکام کا خواہاں ہے، تاہم اپنی خودمختاری، قومی وقار اور سلامتی کے تحفظ پر کسی صورت سمجھوتہ نہیں کرے گا۔تقریب کا اختتام قائدِاعظم کے سنہری اصولوں اور نظریات کو مشعلِ راہ بناتے ہوئے وطنِ عزیز کے دفاع کو ناقابلِ تسخیر بنانے کے عزم کی تجدید کے ساتھ ہوا۔*ترجمان پاک فضائیہ*

