اسلام آباد (الفجرآن لائن): بینظیر انکم سپورٹ پروگرام نے ملک بھر میں مستحقین کو فراہم کی جانے والی خدمات کو جدید خطوط پر استوار کرنے کے لیے نیشنل انفارمیشن ٹیکنالوجی بورڈ اور پاکستان ریڈ کریسنٹ سوسائٹی کے ساتھ اہم مفاہمتی یادداشتوں پر دستخط کر دیے۔ اس شراکت داری کا بنیادی مقصد ڈیجیٹلائزیشن، ڈیٹا کی بنیاد پر خدمات کی فراہمی، قدرتی آفات سے نمٹنے کی تیاری اور ہنگامی حالات میں مؤثر سماجی تحفظ کے نظام کو مزید مضبوط بنانا ہے۔اسلام آباد میں منعقدہ اس پروقار تقریب میں چیئرپرسن بی آئی ایس پی سینیٹر روبینہ خالد نے خصوصی شرکت کی۔ معاہدے کے تحت بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کی جانب سے ڈائریکٹر جنرل این ایس ای آر/سی سی ٹی ڈاکٹر عاصم اعجاز، این آئی ٹی بی کی طرف سے پروجیکٹ ڈائریکٹر فیصل ممتاز، جبکہ پاکستان ریڈ کریسنٹ سوسائٹی کی نمائندگی کرتے ہوئے محمد عبید اللہ خان نے مفاہمتی یادداشتوں پر دستخط کیے۔نیشنل انفارمیشن ٹیکنالوجی بورڈ کے ساتھ ہونے والے معاہدے کے تحت ڈیجیٹل اکانومی انہانسمنٹ پراجیکٹ کے ذریعے دونوں ادارے شہریوں کے لیے سروسز کی ڈیجیٹلائزیشن پر کام کریں گے۔
اس منصوبے کا بنیادی فوکس ملک بھر میں بی آئی ایس پی کی خواتین بینیفشریز کے لیے خدمات تک رسائی کو مزید آسان اور شفاف بنانا ہے۔ دوسری جانب، پاکستان ریڈ کریسنٹ سوسائٹی کے ساتھ شراکت داری کے تحت قدرتی آفات کی آمد سے قبل ہی مستحق افراد کی نشاندہی، آفات سے نمٹنے کی تیاری اور ہنگامی حالات میں کمزور طبقات کے لیے سماجی تحفظ کے دائرہ کار کو وسیع کیا جائے گا۔تقریب سے خطاب کرتے ہوئے چیئرپرسن بی آئی ایس پی سینیٹر روبینہ خالد نے ڈیٹا شیئرنگ اور سرکاری اداروں کے درمیان باہمی رابطہ کاری کی اہمیت پر خصوصی زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ صوبوں اور مختلف محکموں کے درمیان مؤثر تعاون سے عوامی خدمات کی فراہمی کو مزید بہتر بنایا جا سکتا ہے۔ دستیاب ڈیٹا کو مربوط انداز میں استعمال کر کے بالخصوص ہنگامی حالات اور قدرتی آفات کے دوران غریب اور پسماندہ طبقات کی ضروریات کو زیادہ مؤثر اور بروقت انداز میں پورا کیا جا سکتا ہے۔سینیٹر روبینہ خالد نے مزید کہا کہ بی آئی ایس پی کا وسیع جیو ٹیگڈ ڈیٹا کسی بھی ناگہانی صورتحال یا قدرتی آفت کے دوران متاثرہ آبادیوں کی درست نشاندہی اور ان تک فوری رسائی میں کلیدی کردار ادا کر سکتا ہے۔ انہوں نے اس بات کا اعادہ کیا کہ ہنگامی حالات کے دوران کمزور طبقات تک بروقت اور درست معلومات پہنچانے کے لیے عوامی آگاہی اور تمام شراکت داروں کے درمیان مربوط کوششیں وقت کی اہم ضرورت ہیں

