اسلام آباد (نمائندہ خصوصی،محمد ثاقب خان) وفاقی وزراء نے کہا ہے کہ عالمی سطح پر پٹرولیم بحران کے اثرات سے کمزور اور مستحق طبقات کو بچانے کیلئے شروع کی گئی، وزیراعظم فیول ریلیف اسکیم پر عملدرآمد کا آغاز کر دیا گیا ہے۔
سکیم کے تحت موٹرسائیکل مالکان کو 5 لیٹر جبکہ 800 سی سی تک گاڑیوں کے مالکان کو 10 لیٹر پٹرول کا ریلیف دیا جائے گا، رجسٹریشن کیلئے صارف کا موبائل سم اور شناختی کارڈ ایک ہی نام پر ہونا لازمی ہے۔
پی ٹی آئی کے دھرنوں کی کال کھوکھلی ہے، بہتر ہو گا یہ جماعت دھرنوں کی سیاست چھوڑ کر عوام کی خدمت کی سیاست اپنائے۔ وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطا اللہ تارڑ نے وزیر پٹرولیم علی پرویز ملک اور شزا فاطمہ کے ہمراہ وزیراعظم فیول ریلیف اسکیم کے حوالے سے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ وزیراعظم نے ان لوگوں کیلئے خصوصی ریلیف اسکیم کا اجرا کیا ہے جن پر تیل کی قیمتوں میں اضافے کا سب سے زیادہ بوجھ پڑا، اس نوعیت کا نظام اس سے پہلے کبھی متعارف نہیں کروایا گیا۔
انہوں نے کہا کہ ریلیف حاصل کرنے کیلئے 9771 سے موصول ہونے والا ٹوکن پٹرول پمپ پر دکھانا ہوگا، وزیراعظم کی خصوصی ہدایت ہے کہ ریلیف کی سہولت ملنے کے بعد کرایوں میں اضافہ نہیں ہونا چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ حکومت کفایت شعاری کیلئے متعدد اقدامات کر رہی ہے، کچھ اقدامات جاری رکھے گئے ہیں جبکہ بعض کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔ پی ٹی آئی پر تنقید کرتے ہوئے وزیر اطلاعات نے کہا کہ خیبر پختونخوا میں پی ٹی آئی کی حکومت ہے،
بہتر ہوتا کہ وہ ماڈل گورننس کی مثالیں سامنے لاتی، مگر دھرنوں کی کال کھوکھلی ہے۔
پی ٹی آئی اپنے ساڑھے 12 سالہ دور حکومت کا کوئی ایک ایسا منصوبہ بتائے جسے ماڈل پراجیکٹ قرار دیا جاسکے۔
انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی دھرنوں کی سیاست چھوڑ کر عوام کی خدمت کی سیاست اپنائے، مسلم لیگ (ن) کی حکومت نے ہمیشہ خدمت کی سیاست کو شعار بنایا، دانش اسکول اور میٹرو بس جیسے مثالی منصوبے دیے گئے جبکہ پنجاب حکومت کے منصوبوں کو دنیا بھر میں پذیرائی مل رہی ہے۔
وزیر اطلاعات نے کہا کہ وزیراعظم نے وعدہ کیا تھا کہ تنخواہ دار طبقے کیلئے بجٹ میں گنجائش پیدا کی جائے گی، اسی وعدے کے تحت ٹیکس سلیبس میں کمی کی گئی، ایکسپورٹرز نے بھی بجٹ کو سراہا۔ آئی ایم ایف پروگرام میں رہتے ہوئے ایسی اصلاحات کی گئیں جنہیں عالمی سطح پر پذیرائی ملی۔
انہوں نے کہا کہ جنگ کے باعث بحری جہازوں کی نقل و حمل متاثر ہوئی ہے، تاہم آئل سپلائی کے انتظامات کے باعث لوڈشیڈنگ کو کم سے کم رکھنے کی کوشش کی جارہی ہے۔ بجلی کے شعبے میں تاریخی اصلاحات کی گئیں، آئی پی پیز کا مسئلہ حل کیا گیا اور عوام کیلئے گنجائش پیدا کی گئی، پاور سیکٹر میں مزید اصلاحات پر بھی بھرپور توجہ ہے۔
وفاقی وزیر پٹرولیم علی پرویز ملک نے بریفنگ میں کہا کہ حکومت نے عالمی تیل بحران کے دوران عوام کو ریلیف دینے کیلئے تمام وسائل بروئے کار لائے، نجی ریفائنریوں نے وزیراعظم کی اپیل پر ریفائنڈ مصنوعات کے فارمولے میں تبدیلی کی جبکہ مقامی طور پر پیدا ہونے والے ڈیزل کی لاگت کے مطابق اسے سستا فراہم کرنے کیلئے اقدامات کیے گئے۔
انہوں نے کہا کہ عالمی منڈی میں قیمتیں کم ہونے کی صورت میں اس کمی کا فائدہ شفاف انداز میں عوام تک منتقل کیا جائے گا، پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں شفافیت حکومت کی ترجیح ہے۔
انہوں نے کہا یکم جولائی سے پٹرول پمپ کی قیمت میں شامل ہر عنصر کی تفصیلات اوگرا کی ویب سائٹ پر اردو اور انگریزی دونوں زبانوں میں جاری کی گئی ہیں، پلیٹس اور خام تیل سے متعلق اعداد و شمار بھی دستیاب ہیں۔
انہوں نے کہا کہ حکومت کو خطے کی صورتحال کی سنگینی کا مکمل احساس ہے، بحران پیدا کرنے میں ہمارا کردار شاید نہ ہو لیکن اس کے حل کیلئے بھرپور کردار ادا کرنا ہماری ذمہ داری ہے۔
وزیراعظم، نائب وزیراعظم اور فیلڈ مارشل مستقل جنگ بندی کی کوششوں کیلئے دن رات کام کر رہے ہیں، خطے کے بحران کا مستقل حل جنگ بندی اور امن کے قیام سے ہی ممکن ہے۔
وفاقی وزیر پٹرولیم نے کہا کہ پاکستان میں ریفائنری سیکٹر میں مطلوبہ سرمایہ کاری نہ ہونے کے باعث سستا خام تیل استعمال کرنے کی صلاحیت محدود ہے، تاہم ریفائنریوں کو جدید بنانے کیلئے بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری کی جا رہی ہے۔
انہوں نے کہا اقتصادی رابطہ کمیٹی نے ریفائنری اپ گریڈیشن پروگرام کیلئے وسائل اور ریفائنریوں سے معاہدوں کی منظوری دے دی ہے، یکم اکتوبر تک ریفائنریوں کے ساتھ معاہدوں کے بعد 5 سے 6 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری متوقع ہے۔

