آبی نظام شدید دباؤ کا شکار ہے، وفاقی کوآرڈینیٹر رانا احمد عتیق انور
مصنوعی ذہانت پانی کے عالمی چیلنجز کا انقلابی حل ہے، ڈاکٹر محمد نافع ذکریا
اسلام آباد (الفجرآن لائن) پاکستان سمیت دنیا بھر میں موسمیاتی تبدیلیوں اور آبی قلت کے بڑھتے ہوئے خطرات کے پیشِ نظر، کامسیٹس یونیورسٹی اسلام آباد میں آبی وسائل کی پائیدار گورننس اور سیکیورٹی کے لیے مصنوعی ذہانت (AI) کے استعمال پر 4 روزہ بین الاقوامی کانفرنس کا باضابطہ آغاز ہو گیا ہے۔ "اے این ایس او ۔ کامسیٹس کانفرنس” کا اہتمام کمیشن آن سائنس اینڈ ٹیکنالوجی فار سسٹین ایبل ڈویلپمنٹ ان دی ساوتھ (کامسیٹس) نے ایلائنس آف نیشنل اینڈ انٹرنیشنل سائنس آرگنائزیشنز فار دی بیلٹ اینڈ روڈ ریجنز (اے این ایس او) کے تعاون سے کیا ہے۔ اس اہم علمی اور سائنسی سرگرمی کو اقوامِ متحدہ کے ادارے یونیسکو کے زیرِ قیادت ‘انٹرنیشنل ڈیکیڈ آف سائنسز فار سسٹین ایبل ڈویلپمنٹ 2024-2033’ کا باضابطہ حصہ تسلیم کیا گیا ہے۔
کانفرنس کی افتتاحی تقریب کے مہمانِ خصوصی، وزیر اعظم کے کوآرڈینیٹر برائے سائنس و ٹیکنالوجی اور آئی ٹی اینڈ ٹیلی کام، رانا احمد عتیق انور تھے۔ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ موسمیاتی تبدیلی، تیز رفتار شہری کاری، صنعتی توسیع، آبادی میں بے تحاشہ اضافہ اور بڑھتی ہوئی آلودگی جیسے عوامل کی وجہ سے دنیا بھر کا آبی نظام اس وقت شدید دباؤ کا شکار ہے۔ انہوں نے سال 2022 کے تباہ کن سیلاب کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ کئی ترقی پذیر ممالک طویل خشک سالی، زیر زمین پانی کی سطح میں خطرناک حد تک کمی اور آبی آلودگی جیسے سنگین مسائل سے دوچار ہیں۔ انہوں نے شرکاء کو حکومتِ پاکستان کے آبی تحفظ کے جامع ایجنڈے اور ‘نیشنل واٹر پالیسی’ پر عملدرآمد سمیت واٹر ہارویسٹنگ جیسے اہم اقدامات سے آگاہ کیا اور اس بات پر زور دیا کہ ان چیلنجز سے نمٹنے کے لیے ایک مربوط قومی حکمتِ عملی وقت کی اہم ضرورت ہے۔
اس موقع پر کامسیٹس کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر، سفیر ڈاکٹر محمد نافع ذکریا نے کانفرنس کی تزویراتی (Strategic) اہمیت پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے اپنے خطاب میں کہا کہ جدید دور میں مصنوعی ذہانت (AI) پانی کے عالمی بحران اور اس سے جڑے چیلنجز سے نمٹنے میں ایک انقلابی اور کلیدی کردار ادا کر سکتی ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ اس کانفرنس کے دوران ہونے والی مشاورت اور سائنسی تحقیق اقوامِ متحدہ کے پائیدار ترقی کے ہدف نمبر 6 (صاف پانی اور نکاسِ آب کی فراہمی) کے حصول میں انتہائی معاون ثابت ہو گی۔ ڈاکٹر نافع ذکریا نے سائنسی میدان میں مسلم امہ کا نام روشن کرنے والے نوبل انعام یافتہ مایہ ناز ماہرِ طبیعیات پروفیسر عبدالسلام کو بھی زبردست الفاظ میں خراجِ عقیدت پیش کیا۔
کانفرنس کی میزبانی کامسیٹس یونیورسٹی اسلام آباد کر رہی ہے، جبکہ اس کے اشتراکی اداروں میں چین کا سنکیانگ انسٹی ٹیوٹ آف ایکولوجی اینڈ جیوگرافی (چائنیز اکیڈمی آف سائنسز)، مصر کا نیشنل ریسرچ سینٹر، پاکستان کا گلوبل کلائمیٹ چینج امپیکٹ اسٹڈیز سینٹر اور پاکستان کونسل آف ریسرچ ان واٹر ریسورسز شامل ہیں۔ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کامسیٹس یونیورسٹی کے ریکٹر پروفیسر ڈاکٹر راحیل قمر نے واضح کیا کہ جہاں پانی کے انتظام میں مصنوعی ذہانت کا استعمال ناگزیر ہو چکا ہے، وہی اس ٹیکنالوجی کے اطلاق میں اخلاقی اقدار اور انسانی نگرانی کو برقرار رکھنا بھی بے حد ضروری ہے۔ اے این ایس او کے ڈپٹی ایگزیکٹو ڈائریکٹر ڈاکٹر ڑی جن یی نے پائیدار ترقی کے اہداف کے حصول کے لیے بین الاقوامی سائنسی تعاون کو مزید فروغ دینے کے عزم کا اعادہ کیا
افتتاحی تقریب میں زمبابوے کے سفیر سمیت کامسیٹس کے رکن ممالک کے سینئر سفارتکاروں اور اعلیٰ شخصیات نے شرکت کی۔ اس 4 روزہ عالمی کانفرنس میں چین، مصر، جرمنی، بلجیئم، بنگلہ دیش، انڈونیشیا، اردن، جمیکا، نائیجیریا، سعودی عرب اور ترکیہ سمیت دنیا کے مختلف ممالک کے معروف محققین اور ماہرینِ آبی وسائل حصہ لے رہے ہیں۔ پاکستان بھر کے مختلف علمی، تحقیقی اور سرکاری اداروں سے تعلق رکھنے والے 50 سے زائد ماہرین کانفرنس میں بالمشافہ (In-person) موجود ہیں، جبکہ 100 سے زائد ماہرین آن لائن پورٹل کے ذریعے اس سائنسی سیشن کا حصہ بن کر اپنے مقالے اور تجاویز پیش کر رہے ہیں

