تحائف 30 روز کے اندر جمع کرانا ہوں گے، مارکیٹ ویلیو کے شفاف تعین، آڈٹ اور ویب پورٹل پر معلومات کی فراہمی کا نظام بھی وضع
اسلام آباد (الفجرآن لائن) وفاقی حکومت نے توشہ خانہ کے انتظام اور سرکاری تحائف سے متعلق نئے قواعد توشہ خانہ (مینجمنٹ اینڈ ریگولیشن) رولز 2026 نافذ کردیئے ہیں، جن کے تحت موجودہ اور مستقبل میں جمع ہونے والے تحائف کی عمومی طور پر کھلی نیلامی، مقررہ مدت میں تحائف جمع کرانے، مارکیٹ ویلیو کے شفاف تعین، باقاعدہ آڈٹ اور ویب پورٹل پر تصدیق شدہ معلومات کی فراہمی کا نظام متعارف کرایا گیا ہے۔ کابینہ ڈویژن کی سرکاری ویب سائٹ پر ان قواعد کی تاریخ 22 ستمبر 2026 درج ہے۔نئے قواعد کے تحت بیرون ملک سرکاری دورے سے واپسی پر ملنے والا تحفہ 30 دن کے اندر توشہ خانہ میں جمع کرانا ہوگا، جبکہ الگ سے پاکستان منگوائے جانے والے تحائف 60 دن کے اندر جمع کرانا لازم ہوگا۔ مقررہ مدت میں تحفہ جمع نہ کرانے یا اسے ظاہر نہ کرنے کی صورت میں متعلقہ قانون کے تحت کارروائی کی جائے گی۔قواعد کے مطابق توشہ خانہ میں موجود اور مستقبل میں جمع ہونے والے تحائف عمومی طور پر کھلی نیلامی کے ذریعے فروخت کیے جائیں گے۔
سرکاری عہدیدار اور ان کے خاندان کے افراد توشہ خانہ کی نیلامی میں حصہ نہیں لے سکیں گے۔ نیلامی سے حاصل ہونے والی رقم انتہائی پسماندہ علاقوں میں بچیوں کی ابتدائی تعلیم کے لیے مختص کی جائے گی اور اسے چھ ماہ کے اندر خرچ کرنا ہوگا۔تحائف کی مارکیٹ ویلیو کے تعین کے لیے ایف بی آر اور نجی شعبے سے تخمینہ لگوایا جائے گا۔ دونوں تخمینوں میں 25 فیصد سے زیادہ فرق کی صورت میں تیسرے نجی ماہر سے قیمت کا تعین کرایا جائے گا، جس کی مقرر کردہ قیمت حتمی تصور ہوگی۔ منظور شدہ جنریٹو مصنوعی ذہانت کے ذریعے قیمت کا تخمینہ بھی لگایا جاسکے گا، تاہم اسے صرف حوالہ جاتی قیمت کے طور پر استعمال کیا جائے گا۔

