انتظامی اخراجات سے حاصل ہونے والی بچت مزید طلبہ کو اسکالرشپس دینے پر خرچ ہوگی، وزیر اعلیٰ میر سرفراز بگٹی کی ہدایت
کوئٹہ (الفجر آن لائن): وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کی زیرِ صدارت بلوچستان ایجوکیشن انڈومنٹ فنڈ کی کارکردگی کا جائزہ لینے کے لیے اجلاس چیف منسٹر سیکریٹریٹ میں منعقد ہوا، جس میں ادارے کے غیر ضروری انتظامی اخراجات کم کرنے، تنظیمِ نو اور دستیاب وسائل کے مؤثر استعمال سے متعلق اہم امور کا جائزہ لیتے ہوئے ضروری فیصلے کیے گئے۔
اجلاس کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا گیا کہ ادارے کے انتظامی اخراجات میں کمی سے حاصل ہونے والی بچت مزید طلبہ کو اسکالرشپس فراہم کرنے کے لیے استعمال کی جائے گی، تاکہ زیادہ سے زیادہ مستحق اور باصلاحیت نوجوانوں کو اعلیٰ تعلیم کے حصول میں معاونت فراہم کی جا سکے۔
اس موقع پر وزیر اعلیٰ میر سرفراز بگٹی نے کہا کہ بلوچستان ایجوکیشن انڈومنٹ فنڈ ایک اہم ادارہ ہے، جس کا بنیادی مقصد طلبہ کو تعلیم کے بہتر مواقع فراہم کرنا اور مالی مشکلات کے باعث اعلیٰ تعلیم سے محروم رہ جانے والے نوجوانوں کی مدد کرنا ہے۔
شہداء کے بچوں، اقلیتوں اور ٹرانس جینڈر کمیونٹی کے لیے وظائف
انہوں نے کہا کہ ادارے کی تنظیمِ نو کے ذریعے اس کی کارکردگی بہتر بنائی جائے گی، جبکہ انتظامی اخراجات میں کمی کے ساتھ دستیاب وسائل کو زیادہ مؤثر انداز میں بروئے کار لایا جائے گا۔
وزیر اعلیٰ بلوچستان نے کہا کہ شہداء کے بچوں، اقلیتوں اور ٹرانس جینڈر کمیونٹی کو اسکالرشپس کی فراہمی ایک اہم اقدام ہے، جو تعلیم تک مساوی رسائی اور معاشرے کے مختلف طبقات کو آگے بڑھنے کے مواقع فراہم کرنے کے عزم کی عکاسی کرتا ہے۔
انہوں نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ اسکالرشپس کی فراہمی کے نظام کو مزید مؤثر، شفاف اور نتیجہ خیز بنایا جائے تاکہ تعلیمی وظائف حقیقی معنوں میں مستحق طلبہ تک پہنچ سکیں۔
میر سرفراز بگٹی نے کہا کہ تعلیم کا فروغ اور مستحق و باصلاحیت طلبہ کو آگے بڑھنے کے مواقع فراہم کرنا حکومتِ بلوچستان کی اہم ترجیحات میں شامل ہے۔ انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ سرکاری وسائل کے دانشمندانہ استعمال اور ادارہ جاتی اصلاحات کے ذریعے زیادہ سے زیادہ نوجوانوں کو اعلیٰ تعلیم کے حصول میں معاونت فراہم کی جائے گی۔
اجلاس میں بلوچستان ایجوکیشن انڈومنٹ فنڈ کے چیف ایگزیکٹو آفیسر خالد ماندائی نے ادارے کی کارکردگی اور انتظامی امور کے بارے میں بریفنگ دی، جبکہ سیکریٹری خزانہ جہانگیر خان نے موجودہ اخراجات اور مجوزہ تنظیمِ نو کے نتیجے میں متوقع فوائد پر روشنی ڈالی۔
اجلاس میں ادارے کی کارکردگی بہتر بنانے، غیر ضروری اخراجات کم کرنے اور بچت سے حاصل ہونے والے وسائل کو تعلیمی وظائف کی فراہمی کے لیے استعمال کرنے سے متعلق امور کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔


