خواتین کو امن مذاکرات، فیصلہ سازی اور معاشی پالیسی سازی میں مؤثر نمائندگی دی جائے، مشیر ترقی نسواں؛ گورنر ہاؤس کوئٹہ میں عالمی ثالثی، تزویراتی سفارتکاری اور تنازعات کے حل سے متعلق صوبائی کانفرنس سے خطاب
کوئٹہ (الفجر آن لائن) وزیراعلیٰ بلوچستان کی مشیر برائے ترقی نسواں ڈاکٹر ربابہ خان بلیدی نے کہا ہے کہ موجودہ عالمی اور علاقائی حالات میں پائیدار امن، معاشی استحکام اور باہمی تعاون کے فروغ کے لیے مؤثر سفارتکاری، بامعنی مکالمے، تنازعات کا پُرامن حل اور بین المذاہب ہم آہنگی ناگزیر ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کا ابھرتا ہوا سفارتی کردار خطے میں امن، استحکام اور معاشی تعاون کے نئے امکانات پیدا کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے، تاہم پائیدار ترقی کے لیے معاشرے کے تمام طبقات، بالخصوص خواتین کی مؤثر شمولیت ضروری ہے۔
ان خیالات کا اظہار انہوں نے گورنر ہاؤس کوئٹہ میں منعقدہ صوبائی کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ کانفرنس کا موضوع ’’معرکۂ حق کے بعد کے دور میں عالمی ثالثی، تزویراتی سفارتکاری، تنازعات کے حل اور معاشی سرگرمیوں کے فروغ کے تناظر میں پاکستان کا ابھرتا ہوا کردار‘‘ تھا۔
کانفرنس کا انعقاد انٹرنیشنل ریسرچ کونسل فار ریلیجس افیئرز (IRCRA) نے پاکستان پاورٹی ایلیوی ایشن فنڈ (PPAF) کے مالی تعاون اور سینٹر آف ایکسی لینس آن کاؤنٹرنگ وائلنٹ ایکسٹریمزم بلوچستان کے اشتراک سے کیا۔
ڈاکٹر ربابہ خان بلیدی نے کہا کہ عالمی سطح پر جاری تنازعات، سیاسی کشیدگی اور معاشی چیلنجز کے تناظر میں پاکستان کا سفارتی کردار مزید اہمیت اختیار کر چکا ہے۔ اعتماد سازی، مذاکرات اور مشترکہ مفادات پر مبنی تعاون کو فروغ دے کر نہ صرف تنازعات کے حل کی راہیں تلاش کی جا سکتی ہیں بلکہ تجارت، سرمایہ کاری اور معاشی سرگرمیوں کے نئے مواقع بھی پیدا کیے جا سکتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ امن محض جنگ یا تنازع کے خاتمے کا نام نہیں بلکہ ایسا سماجی ماحول تشکیل دینے کا عمل ہے جہاں مختلف مذاہب، ثقافتوں اور معاشرتی پس منظر سے تعلق رکھنے والے افراد کو مساوی حقوق، تحفظ اور ترقی کے یکساں مواقع حاصل ہوں۔
مشیر ترقی نسواں کا کہنا تھا کہ بین المذاہب ہم آہنگی، رواداری اور باہمی احترام کسی بھی معاشرے کے استحکام کے بنیادی ستون ہیں، جبکہ انتہا پسندی اور عدم برداشت کے خاتمے کے لیے تعلیم، سماجی شعور اور مثبت مکالمے کو فروغ دینا ضروری ہے۔
خواتین کے کردار پر روشنی ڈالتے ہوئے ڈاکٹر ربابہ خان بلیدی نے کہا کہ امن سازی اور تنازعات کے حل کے عمل میں خواتین غیر معمولی اہمیت رکھتی ہیں۔ خواتین خاندان اور معاشرے کی تشکیل کے ساتھ سماجی ہم آہنگی، برداشت، کمیونٹی سطح پر مکالمے اور تنازعات کی روک تھام میں بھی مؤثر کردار ادا کر سکتی ہیں۔
انہوں نے زور دیا کہ خواتین کو فیصلہ سازی، سفارتکاری، امن مذاکرات اور معاشی پالیسی سازی کے عمل میں مناسب نمائندگی اور مساوی مواقع فراہم کیے جائیں تاکہ پائیدار امن اور ترقی کے اہداف حاصل کیے جا سکیں۔
ڈاکٹر ربابہ خان بلیدی نے مزید کہا کہ خواتین کی معاشی خودمختاری، تعلیم اور روزگار کے مواقع ان کی سماجی حیثیت مضبوط بنانے کے ساتھ معاشرے میں استحکام اور ترقی کے امکانات بھی بڑھاتے ہیں۔ بلوچستان سمیت ملک کے پسماندہ علاقوں میں خواتین کی معاشی شمولیت، ہنرمندی کے فروغ اور کاروباری مواقع تک رسائی کو وسعت دینا جامع اور پائیدار ترقی کے لیے انتہائی اہم ہے۔
انہوں نے کانفرنس کے انعقاد کو ایک اہم علمی اور فکری کاوش قرار دیتے ہوئے کہا کہ ایسے فورمز عالمی سفارتکاری، علاقائی سلامتی، بین المذاہب ہم آہنگی اور معاشی تعاون سے متعلق مختلف نقطہ ہائے نظر کو یکجا کرنے اور قابلِ عمل تجاویز مرتب کرنے میں مددگار ثابت ہوتے ہیں۔
مشیر ترقی نسواں نے امید ظاہر کی کہ کانفرنس میں ہونے والی علمی گفتگو اور مرتب کردہ سفارشات پاکستان میں امن، استحکام، سماجی شمولیت اور معاشی ترقی کے فروغ میں مثبت کردار ادا کریں گی۔

