لندن(الفجر آن لائن)برطانوی وزیرِ داخلہ شبانہ محمود آئندہ ہفتے پارلیمنٹ میں قانونی طور پر برطانیہ آنے والے تارکینِ وطن کیلئے مستقل رہائش کے قوانین میں مجوزہ تبدیلیوں کا حتمی اعلان کریں گی۔
حکمراں جماعت کے اندر اختلافات کے باعث ابتدائی تجاویز میں نرمی کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔وزارتِ داخلہ کی ابتدائی تجویز کے مطابق مستقل رہائش حاصل کرنے کی عمومی مدت 5 سال سے بڑھا کر 10 سال کرنے جبکہ کم آمدنی والے بعض غیر ملکی کارکنوں کے لئے یہ مدت 15 سال تک کرنے کی تجویز دی گئی تھی۔
مجوزہ قوانین کا اطلاق پہلے سے برطانیہ میں مقیم ان تارکینِ وطن پر بھی کرنے کی تجویز تھی جو موجودہ نظام کے تحت 5 سال مکمل ہونے پر مستقل رہائش کی درخواست دینے کے اہل ہونے والے تھے، اس تجویز پر لیبر پارٹی کے اندر اختلافات سامنے آئے۔
سابق نائب وزیرِ اعظم اینجلا رینر سمیت بعض لیبر رہنماں نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ پرانے قوانین کے تحت برطانیہ آنے والے افراد پر اچانک نئی شرائط لاگو کرنا ناانصافی ہو گی کیونکہ انہوں نے موجودہ نظام کو مدنظر رکھتے ہوئے اپنے مستقبل کے منصوبے بنائے تھے۔
مجوزہ تبدیلیوں پر برطانیہ میں مقیم پاکستانی اور دیگر ایشیائی کمیونٹیز بھی گہری نظر رکھے ہوئے ہیں، ہزاروں پاکستانی ڈاکٹرز، انجینئرز، آئی ٹی ماہرین،
وکلا اور کاروباری افراد سمیت مختلف شعبوں میں خدمات انجام دے رہے ہیں جن میں سے بہت سے افراد موجودہ 5 سالہ مدت کے بعد مستقل رہائش حاصل کرنے کے منتظر ہیں۔
کمیونٹی رہنماؤ ں کے مطابق نئے قوانین کا اطلاق پہلے سے مقیم افراد پر ہونے کی صورت میں متعدد خاندانوں کے مستقبل کے منصوبے متاثر ہو سکتے ہیں کیونکہ مستقل رہائش کے بعد برطانوی شہریت، ملازمت کے تحفظ اور طویل مدتی استحکام کے راستے آسان ہوتے ہیں۔
تاہم برطانوی حکومت نے تاحال واضح نہیں کیا کہ نئی شرائط کن افراد پر لاگو ہوں گی اور پہلے سے مقیم تارکینِ وطن کے لیے کیا عبوری انتظامات کیے جائیں گے؟ حتمی پالیسی کے اعلان کے بعد ہی پاکستانی اور دیگر تارکینِ وطن پر اس کے اثرات واضح ہوں گے۔

