اسلام آباد(الفجرآن لائن)ماہ اکتوبر۔پاکستان میں دہشت گردی کے واقعات میں نمایاں کمی۔111 دہشت گرد حملوں میں 143 افراد جاں بحق جبکہ 69 زخمی ہوئے ہیں۔
پاکستان انسٹی ٹیوٹ فار کنفلکٹ اینڈ سیکیورٹی اسٹڈیز (پکس)کے اعداد و شمار کے مطابق ستمبر کے مقابلے میں اکتوبر میں دہشت گردانہ حملوں میں 37 فیصد کمی ہوئی جبکہ ان حملوں سے ہلاکتوں میں 57 فیصد اور زخمیوں کی تعداد میں 71 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی۔
رپورٹ کے مطابق اکتوبر میں ملک بھر میں 143 دہشت گردانہ حملے ہوئے جو ستمبر کے 226 حملوں کے مقابلے میں کافی کم ہیں۔ ان حملوں میں 111 افراد جاں بحق ہوئے جبکہ ستمبر میں یہ تعداد 260 تھی۔
زخمیوں کی تعداد بھی 242 سے کم ہو کر صرف 69 رہ گئی۔دہشت گردانہ حملوں اور سیکیورٹی فورسز کے آپریشنز میں مجموعی طور پر 272 افراد ہلاک ہوئے جن میں 53 سیکیورٹی اہلکار، 5 امن کمیٹی کے ارکان، 45 شہری اور 169 دہشت گرد شامل ہیں۔
زخمی ہونے والوں میں 29 سیکیورٹی اہلکار، 11 امن کمیٹی کے ارکان اور 31 شہری شامل ہیں۔ رپورٹ کے مطابق بلوچستان میں سب سے زیادہ بہتری دیکھی گئی جہاں حملوں میں 46 فیصد کمی ہوئی۔
ستمبر میں 132 حملے ہوئے تھے جو اکتوبر میں کم ہو کر 71 رہ گئے۔ حملوں سے ہلاکتوں میں تقریبا 68 فیصد جبکہ زخمیوں میں 41 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی۔ خیبر پختونخوا کے مین لینڈ میں بھی حملوں میں 31 فیصد کمی ہوئی۔
رپورٹ کے مطابق خودکش حملوں میں بھی واضح کمی دیکھی گئی۔ اکتوبر میں صرف ایک خودکش حملہ ہوا جو بغیر کسی جانی نقصان کے ہوا جبکہ ستمبر میں تین خودکش حملوں سے 45 افراد ہلاک اور 138 زخمی ہوئے تھے۔
تاہم اغوا کے واقعات میں اضافہ تشویش ناک ہے۔ اکتوبر میں ملک بھر میں 88 افراد کو اغوا کیا گیا جو ستمبر کے 72 کے مقابلے میں 22 فیصد زیادہ ہے۔ ان میں سے 70 اغوا بلوچستان میں ہوئے۔
رپورٹ کے مطابق 2026 کے پہلے دس مہینوں میں ملک بھر میں 1,376 دہشت گردانہ حملے ہوئے جن میں مجموعی طور پر 3,902 افراد جاں بحق ہوئے۔ 2025 کے اسی عرصے کے مقابلے میں حملوں میں 53 فیصد جبکہ ہلاکتوں میں 36 فیصد اضافہ ہوا ہے۔۔

