یو اے ای 2027ء میں ترکیہ کو پیچھے چھوڑ کر مشرقِ وسطیٰ اور شمالی افریقہ کا سب سے بڑا کرپٹو مرکز بن سکتا ہے، چین اینالیسس کی رپورٹ
ابوظہبی (الفجر آن لائن) مشرقِ وسطیٰ میں جنگی صورتحال اور عالمی سطح پر کرپٹو مارکیٹ میں مندی کے باوجود متحدہ عرب امارات کی کرپٹو معیشت میں 32 فیصد نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، جس کے بعد یو اے ای 2027ء میں ترکیہ کو پیچھے چھوڑ کر مشرقِ وسطیٰ اور شمالی افریقہ (مینا) کا سب سے بڑا کرپٹو مرکز بننے کی پوزیشن میں آ گیا ہے۔
بلاک چین تجزیاتی ادارے چین اینالیسس کی تازہ رپورٹ کے مطابق جون 2026ء تک ایک سال کے دوران متحدہ عرب امارات کی کرپٹو معیشت کا حجم 32 فیصد اضافے کے بعد 104.8 ارب ڈالر، یعنی 384.6 ارب درہم تک پہنچ گیا۔ رپورٹ کے مطابق اس وقت یو اے ای کی کرپٹو مارکیٹ ترکیہ کی مارکیٹ کے مجموعی حجم کا تقریباً 73 فیصد ہے۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ جولائی 2025ء سے جون 2026ء کے دوران مینا خطے کی مجموعی کرپٹو معیشت 443.3 ارب ڈالر رہی، جو گزشتہ سال کے 449.6 ارب ڈالر کے مقابلے میں معمولی کمی ظاہر کرتی ہے۔ تاہم متحدہ عرب امارات کو نکال کر خطے کی باقی کرپٹو معیشت میں 8.6 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی۔
چین اینالیسس کے مطابق عالمی سطح پر کرپٹو کرنسیوں کی مجموعی مارکیٹ ویلیو میں نمایاں کمی کے باوجود متحدہ عرب امارات میں ڈیجیٹل اثاثوں کی سرگرمیاں مسلسل بڑھتی رہیں۔ رپورٹ میں 28 فروری 2026ء کو شروع ہونے والے ایران تنازع کے خطے کی کرپٹو معیشت پر اثرات کا بھی ذکر کیا گیا ہے۔
اعداد و شمار کے مطابق متحدہ عرب امارات کے کرپٹو سروسز سیکٹر کا حجم 102.3 ارب ڈالر تک پہنچ گیا، جس میں 29 فیصد اضافہ ہوا۔ مرکزی کرپٹو ایکسچینجز میں سرمایہ کاری کا حجم 22 فیصد بڑھ کر 55 ارب ڈالر ہو گیا، جبکہ ادارہ جاتی پلیٹ فارمز میں 75 فیصد اضافے کے بعد سرمایہ کاری 11.7 ارب ڈالر ریکارڈ کی گئی۔
اسی طرح ڈی سینٹرلائزڈ فنانس (ڈی فائی) ایکسچینجز میں بھی 31 فیصد اضافہ دیکھنے میں آیا اور ان کی سرگرمیوں کا حجم 31 ارب ڈالر سے تجاوز کر گیا۔
رپورٹ میں نائن بلاکس کیپیٹل مینجمنٹ کے شریک بانی ہنری ارسلانین کے حوالے سے کہا گیا ہے کہ امریکا کے علاوہ مشرقِ وسطیٰ، بالخصوص متحدہ عرب امارات، کرپٹو کمپنیوں کی عالمی سرگرمیوں کا ایک اہم مرکز بن چکا ہے۔ ان کے مطابق یو اے ای کے ریگولیٹری اداروں کی جانب سے لائسنس جاری کرنے کی پالیسی نے ڈیجیٹل اثاثوں کے شعبے میں کاروباری اداروں کے لیے سرمایہ کاری اور سرگرمیوں کو آسان بنایا ہے۔
دوسری جانب دنیا کے سب سے بڑے کرپٹو ایکسچینج بائنانس میں سکیورٹی خلاف ورزی کے نتیجے میں تقریباً 6.3 ارب ڈالر کے نقصان کی اطلاعات بھی سامنے آئی ہیں۔ بائنانس کے مطابق متاثرہ اثاثوں میں سے تقریباً 3 ارب ڈالر منجمد یا تلاش کر لیے گئے ہیں، جبکہ کمپنی کی شریک بانی یی ہی نے ہیکنگ کے نتیجے میں ہونے والے تمام نقصانات پورے کرنے کی یقین دہانی کرائی ہے۔
ماہرین کے مطابق ڈیجیٹل اثاثوں کے شعبے میں سرمایہ کاری، سازگار ریگولیٹری ماحول اور عالمی کرپٹو کمپنیوں کی بڑھتی ہوئی دلچسپی متحدہ عرب امارات کو خطے کے نمایاں مالیاتی اور ڈیجیٹل اثاثہ جاتی مرکز کے طور پر مستحکم کر رہی ہے۔

