کوئٹہ (خانزادہ یونس خان خلجی سے)
جون 10 کو بلوچستان نیشنل پارٹی کی طرف سے ہڑتال کی کال دی گئی اور 11 جون کو
حکومت بلوچستان کے حکام اور تاجروں، صنعت کاروں
اور ٹرانسپورٹروں و زمینداروں کے ساتھ طویل مذاکرات میں ناکامی کے باعث ہڑتال ہوگی
مرکزی انجمن تاجران بلوچستان کے صدررحیم کاکڑ وکابینہ نے بی این ی پی کے10جون کی شٹر ڈاؤن ہڑتال کی حمایت کردیا۔
بلوچستان نیشنل پارٹی کا مرکزی وفد کا مرکزی انجمن تاجران سے ملاقات بلوچستان نیشنل پارٹی کا مرکزی وفد مرکزی ڈپٹی سیکرٹری ملک نصیرشاہوانی کی قیادت میں مرکزی لیبر سیکرٹری موسی بلوچ مرکزی سینٹرل ایگزیکٹو کمیٹی کے ممبر غلام نبی مری ثناء بلوچ چیرمین جاوید بلوچ میر مقبول احمد لہڑی نے مرکزی انجمن تاجران کے دفتر میں صدررحیم کاکڑ واس کی کابینہ سے ان کے مرکزی دفتر میں ملاقات کیا۔ جس میں سانحہ زہری (بلبل) میں بی این پی کے مرکزی کمیٹی کے ممبر سردار نصیر احمد موسیانی کے رہاہشگاہ پر آپریشن کے نام پر مسلح فورسز کا حملہ جس میں سردار نصیر احمد موسیانی پر براہے راست حملہ تشدد گرفتاری اور فائرنگ جس کے نتیجے میں انکے جوانسال فرزند بی این پی ضلع خضدار کے سینیر ناہب صدر سردارزادہ خلیل احمد موسیانی کے بہیمانہ قتل سردار زادہ زہری خان موسیانی سمیت تین بیٹوں اور دیگر عماہدین و رشتہ داروں کے گرفتاری چادر و چار دیواری کے تقدس کے پامالی کے خلاف بلوچستان نیشنل پارٹی کے مرکزی کال احتجاجی کال کے مطابق10جون_بروزبدھ کے شٹرڈاون ہڑتال کے کامیابی کے انکے تعاون کے استدعا کی گئی
جس پر مرکزی انجمن تاجران بلوچستان کے قائدین نے بی این پی کے شٹر ڈاؤن ہڑتال کے بھرپور حمایت کا اعلان کیا۔ اور 10 جون بروز بدھ تمام تاجران اپنی دوکانین اور کاروبار اس المناک واقع پر بند کریں گے
دریں اثناء بلوچستان میں غیر یقینی صورتحال کے باعث 11ٹرانسپورٹرز اور تاجروں نے 11 جون سے صوبے بھر شٹر ڈاؤن اور پہیہ جام ہڑتال کا اعلان کیا ہے
آل بلوچستان گرینڈ ٹرانسپورٹرز اتحاد کے رہنماؤں، آل بلوچستان ٹرانسپورٹرز ایکشن کمیٹی ، پنجاب، خیبر پختونخوا بس یونین ، آل بلوچستان بس یونین کے عہدیداران نے بلوچستان ٹرانسپورٹرز، تاجر اینڈ مائنز اونرز الائنس کی جانب سے 11 جون بروز جمعرات سے صوبہ بھر میں غیر معینہ مدت تک پہیہ جام ہرتال اور شٹر ڈاؤن ہڑتال کو کامیاب بنانے کی اپیل کرتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت اور متعلقہ ادارے ہر قتال سے بچنے کے لیے بزنس کمیونٹی کے پانچ نکاتی مطالبات کو فوری طور پر تسلیم کر کے ان پر عملی اقدامات یقینی بنائیں ۔
آل بلوچستان ٹرانسپورٹرز ایکشن کمیٹی کے رہنماؤں حاجی میر حکمت لہڑی، صدر حاجی حبیب اللہ خان با دیزنی، جنرل سیکرٹری میراکبر لڑی، حاجی موسی جان اچکزئی، پنجاب خیبر پختونخوا بس یونین کے چیئرمین میر حاجی دولت خان لہڑی، صدر حاجی وحید خان کاکڑ، جنرل سیکرٹری وزیر خان، سیکرٹری اطلاعات ظاہر شاہ کاکر، آل بلوچستان بس یونین کےحبیب اللہ خان، عبدالمتین، اقبال سرگڑھ اور دیگر رہنماؤں نے اپنے مشترکہ بیان میں کہا ہے کہ بلوچستان کے ٹرانسپورٹرز، تاجر، صنعت کار، مائنز مالکان اور دیگر کاروباری شعبوں سے وابستہ افراد طویل عرصے سے شدید مشکلات اور غیر یقینی صورتحال کا سامنا کر رہے ہیں ۔ کاروباری سرگرمیوں پر منفی اثرات مرتب ہو رہے ہیں جبکہ روزگار سے وابستہ لاکھوں افراد کے مسائل میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے ۔ اس صورتحال کے پیش نظر تمام متعلقہ تنظیموں نے مشترکہ طور پر غیر معینہ مدت تک پہیہ جام اور شٹر ڈاؤن ہڑتال کا فیصلہ کیا ہے ۔ رہنماؤں نے کہا کہ اگر حکومت اور متعلقہ ادارے کاروباری برادری کے جائز اور آئینی مطالبات کو فوری طور پر سلیم کر کے ان پر عملد کی یقین دہانی کرائیں تو ہرتال جیسے سخت فیصلے سے بچا جاسکتا ہے
۔ تاہم اگر مطالبات کو نظر انداز کیا گیا تو احتجاجی تحریک کو مزید وسعت دی جائے گی اور تمام متعلقہ شعبے بھر پور انداز میں اس میں حصہ لیں گے ۔ انہوں نے واضح کیا کہ ٹرانسپورٹرز، تاجر اور مائنز مالکان اپنے حقوق اور مطالبات سے کسی صورت دستبردار نہیں ہوں گے اور نہ ہی کسی قسم کے دباؤ، دھونس یا دھمکی کو قبول کریں گے ۔ انہوں نے صوبے بھر کے ٹرانسپورٹرز، تاجروں، صنعت کاروں، مائنز مالکان اور اور عوام سے اپیل کی کہ وہ 11 جون سے شروع ہونے والی پہیہ جام اور شٹر . ڈاؤن ہڑتال کو کامیاب بنانے کے لیے بھر پور کردار ادا کریں
