کوئٹہ (الفجرآن لائن)کمیٹی روم میں چیئرمین فضل قادر مندوخیل کی زیر صدارت منعقد ہوا۔ اجلاس میں راحیلہ حمید خان دورانی اور صفیہ بی بی نے شرکت کی جبکہ سیکرٹری اسمبلی طاہر شاہ کاکڑ، سیکرٹری ویمن ڈویلپمنٹ سائرہ عطاء، اسپیشل سیکرٹری کمیٹیز عبدالرحمٰن بھی شریک ہوئے۔اجلاس کا ایجنڈا 240 ملین روپے کی لاگت سے سات اضلاع کے بجائے دو اضلاع میں ماڈل سیف ہومز کے قیام کی تجویز پر غور کرنا تھا۔ اجلاس میں حکام کی جانب سے بریفنگ دیتے ہوئے بتایا گیا کہ منصوبے کا عنوان کوئٹہ، لورالائی، ژوب، سبی، نصیرآباد، رخشان اور قلات میں سیف ہومز کی تعمیرہے، جس کا منظور شدہ تخمینہ 240 ملین روپے رکھا گیا ہے۔
بریفنگ میں بتایا گیا کہ منصوبے کا بنیادی مقصد بلوچستان کے مختلف اضلاع میں تشدد کا شکار، بے سہارا اور مشکلات سے دوچار خواتین اور ان کے بچوں کے لیے محفوظ اور باوقار رہائش فراہم کرنا ہے۔ مجوزہ سیف ہومز میں خواتین کو رہائش کے ساتھ کونسلنگ، قانونی معاونت، بچوں کی نگہداشت اور بحالی کی سہولیات ایک ہی چھت تلے فراہم کی جائیں گی تاکہ انہیں محفوظ اور معاون ماحول میسر آسکے۔اجلاس کے دوران بتایا گیا کہ اگر 240 ملین روپے سات اضلاع میں تقسیم کیے جائیں تو ہر ضلع کے لیے تقریباً 34 ملین روپے مختص ہوں گے، جو ایک معیاری ماڈل سیف ہوم کی تعمیر کے لیے ناکافی ہیں۔ اس لیے تجویز دی گئی کہ ابتدائی مرحلے میں دو مکمل ماڈل سیف ہومز تعمیر کیے جائیں.
اس اقدام کے تحت ہر ضلع کے لیے تقریباً 120 ملین روپے دستیاب ہوں گے، جس سے تمام ضروری سہولیات سے آراستہ معیاری سیف ہومز تعمیر کیے جا سکیں گے۔اجلاس میں اس بات پر زور دیا گیا کہ ماڈل سیف ہومز خواتین کو تحفظ، رازداری، عزت، نفسیاتی معاونت، قانونی امداد اور بحالی کی خدمات فراہم کریں گے اور مستقبل میں دیگر اضلاع تک اس منصوبے کے دائرہ کار کو وسعت دینے کے لیے ایک مثال ثابت ہوں گے۔حکام نے مزید بتایا کہ منصوبے کے لیے محکمہ صنعت و حرفت کو بطور ایگزیکیوٹنگ ایجنسی تجویز کیا گیا ہے کیونکہ محکمہ مواصلات و تعمیرات اس وقت اضافی ذمہ داریوں کے باعث بوجھ کا شکار ہے۔اجلاس میں کمیٹی نے سفارش کی کہ 240 ملین روپے کی لاگت سے سات اضلاع کے بجائے ژوب اور خاران میں دو ماڈل سیف ہومز کی تعمیر کی منظوری دی جائے اور مرحلہ وار حکمت عملی اپناتے ہوئے ان دو پائلٹ منصوبوں کی کامیاب تکمیل کے بعد دیگر اضلاع تک اس منصوبے کو توسیع دی جائے۔
