اسلام آباد(الفجرآن لائن)وزیراعظم میاں محمد شہباز شریف نے قومی اسمبلی کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے صوبائی حقوق، قومی یکجہتی، دہشت گردی کے خلاف جنگ اور جمہوری استحکام پر حکومت کے مؤقف کا اظہار کیا اور اپوزیشن کو ایک بار پھر میثاقِ جمہوریت کی دعوت دیتے ہوئے کہا کہ آئیں مل کر بیٹھیں اور پاکستان کے روشن مستقبل کے لیے مشترکہ لائحہ عمل اختیار کریں۔
وزیراعظم نے کہا کہ صوبوں کے معاشی وسائل پر ان کا حق تسلیم شدہ ہے اور اس حوالے سے کوئی دو رائے نہیں ہو سکتیں۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان کے رہنماؤں کی مشاورت سے مختلف معاہدے طے پائے اور ریکوڈک منصوبے میں بلوچستان اور اس کے عوام کے حصے کا تعین اس کی روشن مثال ہے۔ انہوں نے کہا کہ 2010 کا این ایف سی ایوارڈ ایک تاریخی معاہدہ تھا جس کے تحت بلوچستان کے حصے میں نمایاں اضافہ کیا گیا۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ کسی پر احسان نہیں بلکہ آئینی اور قومی ذمہ داری تھی، جبکہ دیگر صوبوں خصوصاً پنجاب نے بھی اپنے حصے میں کمی کر کے قومی یکجہتی کا ثبوت دیا۔
وزیراعظم نے کہا کہ بلوچستان پاکستان کا خوبصورت اور اہم صوبہ ہے، جہاں ترقیاتی منصوبوں پر اربوں روپے خرچ کیے جا رہے ہیں۔ گوادر سے چمن تک سڑکوں کی تعمیر سمیت مختلف منصوبے جاری ہیں جن پر 300 ارب روپے سے زائد لاگت آ رہی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ بلوچستان کے کسانوں کو مفت سولر سسٹم فراہم کیے گئے ہیں تاکہ زرعی شعبے کو مضبوط بنایا جا سکے۔اپوزیشن لیڈر کے خطاب کا حوالہ دیتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ افواجِ پاکستان ملک کے دفاع اور دہشت گردی کے خاتمے کے لیے عظیم قربانیاں دے رہی ہیں۔ انہوں نے حالیہ ہیلی کاپٹر حادثے میں شہید ہونے والے 22 اہلکاروں کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ شہداء اپنے بچوں کو یتیم کر کے کروڑوں پاکستانی بچوں کے مستقبل کو محفوظ بناتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ چند روز قبل شہداء کے جنازوں میں شرکت کے دوران ایسے معصوم بچوں کو دیکھا جنہیں یہ بھی معلوم نہیں تھا کہ ان کے والد ہمیشہ کے لیے رخصت ہو چکے ہیں۔ شہید کا مقام اللہ تعالیٰ کے ہاں بہت بلند ہے اور پوری قوم اپنے شہداء کی قربانیوں پر فخر کرتی ہے۔
وزیراعظم نے کہا کہ بلوچستان میں دہشت گردی کے واقعات کے پیچھے موجود عناصر سے سب واقف ہیں اور ریاست دہشت گردی کے خاتمے کے لیے پوری قوت کے ساتھ اقدامات جاری رکھے ہوئے ہے۔اپنے خطاب میں وزیراعظم نے کہا کہ یہ معزز ایوان ایک گھر کی مانند ہے جہاں چاروں صوبوں کے منتخب نمائندے بیٹھے ہیں۔ پاکستان مضبوط ہوگا تو جمہوریت، پارلیمنٹ اور تمام ادارے مضبوط ہوں گے، اس لیے ملکی استحکام کے لیے ہر قربانی کم ہے۔خطاب کے دوران وزیراعظم اور بعض اراکین اسمبلی کے درمیان خوشگوار جملوں کا تبادلہ بھی ہوا جس پر ایوان میں قہقہے گونج اٹھے۔ وزیراعظم نے کہا کہ اختلافات اپنی جگہ مگر تمام اراکین ایک دوسرے کے بھائی ہیں اور ملک کے وسیع تر مفاد میں سب کو مل کر آگے بڑھنا چاہیے۔
