اسلام آباد(الفجرآن لائن)ورچوئل کرنسی کے ذریعے کالعدم تنظیموں کی مالی معاونت روکنے کا فیصلہ کیا گیا ہے جسے ایف آئی اے کا بڑا اقدام قراردیا جا رہا ہے۔ ورچوئل کرنسی انویسٹی گیشن سیل قائم کر دیا گیاخصوصی یونٹ کرپٹو کرنسی اور بلاک چین کا مجرمانہ استعمال روکے گا۔
ورچوئل کرنسی سیل کے تحت نیشنل کمانڈ اینڈ کنٹرول سینٹر بنایا جائے گا۔نیب،پولیس،ایف بی آر، نیکٹا اور دیگر صوبائی و قومی ادارے تعاون کریں گے۔
منی لانڈرنگ، دہشت گردوں کی فنڈنگ اور سائبر کرائمز کی تحقیقات ایک جگہ پرڈیجیٹل اثاثوں کے ذریعے ہونے والے مالیاتی فراڈ پر بھی نظر رکھی جائے گی۔سیل مشکوک کرپٹو،بلاک چین ٹرانزیکشنز اور کولڈ والٹس کا فرانزک کرے گا۔
مجرمانہ نیٹ ورکس توڑنے کیلئے جدید ٹیکنالوجی اور عالمی طریقہ کار اپنایا جائے گا۔پاکستان ورچوئل اثاثہ جات ریگولیٹری اتھارٹی مارکیٹ کو ریگولیٹ کرے گی۔
لائسنس یافتہ کرپٹو سروس پرووائیڈرز کو ہی بینکنگ سسٹم تک رسائی کی اجازت ہوگی۔غیرقانونی اور غیردستاویزی کرپٹو ٹریڈنگ کرنے والوں کیخلاف سخت کارروائی ہوگی۔
اقدام نیشنل ایکشن پلان اور ایف اے ٹی ایف کی سفارشات کی تعمیل میں اٹھایا گیا ہے۔ڈائریکٹر جنرل ایف آئی اے کی منظوری سے نئے سیل کے قیام کا نوٹیفکیشن جاری کردیا گیا ہے۔

