مون سون سے قبل اقدامات، جدید ٹیکنالوجی، آبی ذخائر، موسمیاتی انصاف اور ارلی وارننگ سسٹم پر تفصیلی بریفنگ
پاکستان موسمیاتی تبدیلی سے زیادہ متاثر پانچ ممالک میں شامل، موجودہ سیزن میں اب تک 109 افراد جاں بحق ہو چکے، احسن اقبال
گرین ہاؤس گیسوں کے بڑے اخراج میں شامل نہ ہونے کے باوجود موسمیاتی تبدیلی کے شدید اثرات برداشت کر رہا، مصدق ملک
موسمیاتی خطرات سے نمٹنے کے لیے حکومت "ہول آف گورنمنٹ اپروچ” کے تحت کام کر رہی ہے، محمد اورنگزیب
اسلام آباد (محمد ثاقب خان ) حکومت نے موسمیاتی تبدیلی سے پیدا ہونے والے بڑھتے ہوئے خطرات، ممکنہ سیلابی صورتحال اور قدرتی آفات سے نمٹنے کے لیے جامع قومی حکمتِ عملی پر عملدرآمد کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ وزیراعظم شہباز شریف کی ہدایت پر تمام وفاقی اور صوبائی ادارے مکمل ہم آہنگی کے ساتھ کام کر رہے ہیں۔ نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے) کے دورے کے بعد وفاقی وزرا نے مشترکہ نیوز بریفنگ میں بتایا کہ مون سون سیزن سے قبل حفاظتی اقدامات مکمل کیے جا چکے ہیں، جدید ٹیکنالوجی سے لیس ارلی وارننگ سسٹم فعال ہے اور عوام کے جان و مال کے تحفظ کو اولین ترجیح دی جا رہی ہے۔
وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی و ترقی احسن اقبال نے کہا کہ پاکستان موسمیاتی تبدیلی سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والے پانچ ممالک میں شامل ہے، جہاں فلیش فلڈ، لینڈ سلائیڈنگ اور اربن فلڈنگ کے خطرات مسلسل بڑھ رہے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ وزیراعظم کی ہدایت پر موسمیاتی تبدیلی سے نمٹنے کے لیے ایمرجنسی رسپانس کمیٹی قائم کی گئی ہے، جو روزانہ کی بنیاد پر صورتحال کا جائزہ لے رہی ہے
احسن اقبال نے بتایا کہ مون سون کے موجودہ سیزن کے دوران اب تک 109 افراد جاں بحق ہو چکے ہیں، تاہم زیادہ تر اموات سیلابی ریلوں کے بجائے عمارتوں اور دیگر انفراسٹرکچر کے گرنے کے باعث ہوئیں۔ انہوں نے کہا کہ 2022 اور 2025 کے تباہ کن سیلاب اس بات کا ثبوت ہیں کہ موسمیاتی تبدیلی کے اثرات شدت اختیار کر رہے ہیں، جس کے پیش نظر حکومت زرعی شعبے کو جدید خطوط پر استوار کرنے اور قدرتی آفات سے بچاؤ کے لیے طویل المدتی منصوبہ بندی کر رہی ہے۔
وفاقی وزیر برائے موسمیاتی تبدیلی و ماحولیاتی رابطہ مصدق ملک نے کہا کہ پاکستان گرین ہاؤس گیسوں کے بڑے اخراج کنندگان میں شامل نہیں، لیکن اس کے باوجود موسمیاتی تبدیلی کے شدید اثرات برداشت کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ دنیا کے صرف تین ممالک تقریباً 57 فیصد جبکہ دس ممالک 70 فیصد سے زائد گرین ہاؤس گیسز خارج کرتے ہیں، مگر موسمیاتی تباہی کا سب سے زیادہ بوجھ ترقی پذیر ممالک اٹھا رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ درجہ حرارت میں اضافے سے گلیشیئرز تیزی سے پگھل رہے ہیں، جس کے باعث سیلاب اور دیگر قدرتی آفات کے خطرات میں اضافہ ہو رہا ہے۔ مصدق ملک نے عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ موسمیاتی انصاف کو یقینی بنائے اور کم آلودگی پیدا کرنے والے ممالک کے ساتھ منصفانہ رویہ اختیار کرے۔
وفاقی وزیر برائے آبی وسائل میاں معین وٹو نے کہا کہ مستقبل کے آبی چیلنجز اور سیلابی خطرات سے نمٹنے کے لیے ملک میں پانی ذخیرہ کرنے کی صلاحیت بڑھانا ناگزیر ہے۔ انہوں نے کہا کہ مہمند اور داسو ڈیم جیسے منصوبے نہ صرف آبی ذخائر میں اضافہ کریں گے بلکہ زرعی پیداوار، غذائی تحفظ اور سیلابی پانی کے مؤثر انتظام میں بھی اہم کردار ادا کریں گے۔
وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے کہا کہ موسمیاتی خطرات سے نمٹنے کے لیے حکومت "ہول آف گورنمنٹ اپروچ” کے تحت کام کر رہی ہے، جس میں تمام متعلقہ اداروں کے درمیان مؤثر رابطہ اور مشترکہ منصوبہ بندی کو یقینی بنایا گیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ تقریباً دو ارب ڈالر کے پروگرام کے تحت موسمیاتی تبدیلی اور بڑھتی ہوئی آبادی سے متعلق اصلاحاتی اقدامات پر عمل جاری ہے۔انہوں نے کہا کہ 2025 کے مون سون سیزن میں 2022 کے مقابلے میں انسانی جانوں کا نقصان نسبتاً کم رہا، جس کا سبب بروقت تیاری، بہتر رابطہ کاری اور مؤثر حکومتی اقدامات ہیں۔وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطا اللہ تارڑ نے کہا کہ وزیراعظم شہباز شریف کی ہدایات پر وفاق، صوبائی حکومتوں، گلگت بلتستان، آزاد کشمیر اور متعلقہ اداروں نے مکمل ہم آہنگی کے ساتھ کام کیا، جس کے نتیجے میں ارلی وارننگ سسٹم کو مزید مؤثر بنایا گیا اور عوام کو بروقت اطلاعات فراہم کی گئیں۔انہوں نے کہا کہ این ڈی ایم اے کا نیشنل ایمرجنسی آپریشن سینٹر عالمی معیار کے مطابق کام کر رہا ہے

