اسلام آباد (الفجرآن لائن) قومی اسمبلی کی خزانہ کمیٹی نے ملک میں نان پی ٹی اے موبائل فونز کے بڑے پیمانے پر موجودگی پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اس حوالے سے پالیسی بنانے کی ہدایت کی ہے۔قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کا اجلاس چیئرمین سید نوید قمر کی زیر صدرات ہونے والے اجلاس میں درآمدی اور مقامی موبائل فونز پر عائد ٹیکسز کے حوالے سے ایف بی آر حکام نے بریفننگ دیتے ہوئے بتایا کہ مختلف مالیت کے موبائل فونز پر ٹیکس کی شرح تبدیل کی گئی ہے
جس کے مطابق 30 ڈالر تک کے فونز پر 25 فیصد- 31 سے 100 ڈالر والے فونز پر 36 فیصد- 101 سے 200 ڈالر والے فونز پر 40 فیصد- 201 سے 350 ڈالر والے فونز پر مؤثر شرح 38 فیصد- 351 سے 500 ڈالر والے اسمارٹ فونز پر 40 فیصد- 500 ڈالر سے زائد مالیت والے فونز پر مؤثر شرح 41 فیصد ہوگی۔حکام نے بتایا کہ موبائل فون کی قیمت بڑھنے کے ساتھ ٹیکس کی شرح بھی بڑھ جاتی ہے اور ایک فون پر ٹیکس کی رقم 1,500 روپے سے لے کر 141,500 روپے تک ہو سکتی ہے۔ تمام درآمدی فونز کی اوسط مؤثر ٹیکس شرح 39.6 فیصد ہے جبکہ 44 فیصد درآمدی فونز 31 سے 100 ڈالر کی کم ٹیکس والی کیٹیگری میں آتے ہیں۔
اجلاس میں کمیٹی اراکین نے مارکیٹ میں موجود لاکھوں نان پی ٹی اے موبائل فونز کے مسئلے پر تشویش کا اظہار کیا اور مطالبہ کیا کہ موبائل فونز پر ٹیکسز کی ادائیگی کے لیے اقساط کا نظام متعارف کرایا جائے۔ اراکین نے کہا کہ پوری دنیا میں چھوٹی چھوٹی چیزوں پر بھی اقساط دستیاب ہوتی ہیں۔ چیئرمین کمیٹی نے ایف بی آر اور پی ٹی اے کو ہدایت کی کہ وہ اس حوالے سے مشترکہ پلان تیار کر کے پیش کریں۔ اجلاس کے دوران ممبر جاوید حنیف خان نے کہا کہ ٹیکس میں عوام کو کوئی ریلیف نہیں ملا۔رکن کمیٹی حنا ربانی کھر نے کہا کہ 200 ڈالر تک کے فونز پر ٹیکس کم کیا جا سکتا ہے اور سوال کیا کہ کیا یہ کسی خاص کمپنی کو تحفظ دینے کے لیے ہے۔چیئرمین ایف بی آر نے بتایا کہ امپورٹڈ موبائل فونز سے حکومت کو تقریباً 37 ارب روپے ٹیکس حاصل ہوتا ہے جن میں سے صرف ایپل کمپنی سے 21 ارب روپے آتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کم قیمت والے سلیب میں ٹیکس کم کرنے سے ایک ارب روپے کا ریونیو نقصان ہو گا جس کا بندوبست کہیں اور سے کرنا پڑے گا
