اسلام آباد (الفجرآن لائن) فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے اسٹیل صنعت سے سیلز ٹیکس وصولی کا نیا طریقہ کار نافذ کر دیا ہے، جس کے تحت اسٹیل میلٹرز، ری رولرز اور کمپوزٹ یونٹس سے بجلی کے فی یونٹ استعمال کی بنیاد پر سیلز ٹیکس وصول کیا جائے گا۔
ایف بی آر نے اس حوالے سے نیا ایس آر او جاری کرتے ہوئے نئے ریٹس اور کیٹیگریز کا تعین کر دیا ہے۔ایف بی آر کے نوٹیفکیشن کے مطابق یکم جولائی 2026 سے اسٹیل یونٹس کے لیے بجلی کے استعمال پر نئے سیلز ٹیکس ریٹس نافذ کیے جائیں گے۔
نئے نظام کے تحت مختلف اقسام کے اسٹیل مینوفیکچررز کے لیے الگ الگ ٹیکس شرح مقرر کی گئی ہے۔نوٹیفکیشن کے مطابق مقامی اسکریپ استعمال کرنے والے اسٹیل مینوفیکچررز پر 30 روپے فی یونٹ سیلز ٹیکس عائد ہوگا، جبکہ 70 فیصد سے زائد درآمدی اسکریپ استعمال کرنے والے یونٹس پر 5 روپے فی یونٹ سیلز ٹیکس لاگو کیا گیا ہے۔
اسی طرح ای ایف ایس (EFS) لائسنس یافتہ درآمدی اسکریپ استعمال کرنے والے یونٹس کے لیے بھی 5 روپے فی یونٹ ٹیکس مقرر کیا گیا ہے۔ایف بی آر کے مطابق کیپٹو پاور یا خود بجلی پیدا کرنے والے اسٹیل یونٹس پر 35 روپے فی یونٹ سیلز ٹیکس وصول کیا جائے گا، جبکہ کمپیوٹرائزڈ رپورٹنگ سے منسلک اہل اسٹیل یونٹس کے لیے 5 روپے فی یونٹ کی سہولت برقرار رکھی گئی ہے۔
نوٹیفکیشن میں کہا گیا ہے کہ اس طریقہ کار کے تحت ادا کیا گیا سیلز ٹیکس آؤٹ پٹ سیلز ٹیکس میں ایڈجسٹ کیا جا سکے گا۔ایف بی آر نے اسٹیل یونٹس کی درجہ بندی بھی واضح کر دی ہے۔
پانچ لاکھ یا اس سے زائد ماہانہ بجلی یونٹس استعمال کرنے والے یونٹس کو اسٹیل میلٹرز یا کمپوزٹ یونٹس قرار دیا جائے گا، جبکہ پانچ لاکھ سے کم بجلی استعمال کرنے والے یونٹس اسٹیل ری رولرز کی کیٹیگری میں شامل ہوں گے۔

