*کوئٹہ(الفجرآن لائن) وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے یومِ استحصالِ کشمیر کے موقع پر اپنے خصوصی پیغام میں کہا ہے کہ وہ اپنی جانب سے اور اہلِ بلوچستان کی طرف سے مقبوضہ جموں و کشمیر کے عوام کے ساتھ بھرپور یکجہتی کا اظہار کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ 5 اگست 2019 کو بھارت کی جانب سے آرٹیکل 370 اور 35 اے کی منسوخی ایک غیرقانونی، یکطرفہ اور بین الاقوامی قوانین کے منافی اقدام تھا، جس کا مقصد کشمیری عوام کی شناخت، حقوق اور تاریخی حیثیت کو متاثر کرنا تھا وزیر اعلیٰ نے کہا کہ گزشتہ کئی دہائیوں سے مقبوضہ کشمیر کے عوام ظلم، جبر اور انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کا سامنا کر رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ کشمیری عوام کو ان کی اپنی سرزمین پر اقلیت میں تبدیل کرنے کی کوششیں نہ صرف قابلِ مذمت ہیں بلکہ یہ اقوامِ متحدہ کی قراردادوں اور عالمی قوانین کی بھی صریح خلاف ورزی ہیں میر سرفراز بگٹی نے کہا کہ اہلِ بلوچستان بھارت کے ان اقدامات کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہیں اور کشمیری عوام کے حقِ خودارادیت کی مکمل حمایت کرتے ہیں۔ انہوں نے زور دیا کہ مسئلہ کشمیر کا واحد منصفانہ اور پائیدار حل اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کی متعلقہ قراردادوں اور کشمیری عوام کی امنگوں کے مطابق ہی ممکن ہے وزیر اعلیٰ بلوچستان نے کہا کہ عالمی برادری کو چاہیے کہ وہ مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا مؤثر نوٹس لے، کشمیری عوام پر ہونے والے مظالم کو اجاگر کرے اور بھارت پر بین الاقوامی ذمہ داریوں کی پاسداری کے لیے دباؤ بڑھائے
انہوں نے کہا کہ حکومتِ بلوچستان وفاقی حکومت کے ساتھ مکمل یکجہتی کے ساتھ یہ مطالبہ کرتی ہے کہ جس عزم اور مستقل مزاجی سے پاکستان گزشتہ کئی دہائیوں سے کشمیری عوام کی سیاسی، سفارتی اور اخلاقی حمایت کرتا آیا ہے، اسی جذبے کے ساتھ یہ جدوجہد آئندہ بھی جاری رکھی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان اور بلوچستان کے عوام اپنے کشمیری بہن بھائیوں کو کبھی تنہا نہیں چھوڑیں گے اور ان کے حقِ خودارادیت، آزادی اور انصاف کی جدوجہد کی ہر سطح پر اخلاقی حمایت جاری رکھیں گے وزیر اعلیٰ نے کہا کہ یومِ استحصالِ کشمیر اس عزم کی تجدید کا دن ہے کہ پاکستان اور اہلِ بلوچستان کشمیری عوام کے ساتھ ہر مشکل گھڑی میں کھڑے ہیں اور ان کے جائز حقوق کے حصول تک اپنی بھرپور اخلاقی اور سفارتی حمایت جاری رکھیں گے۔

