اسلام آباد (الفجر آن لائن): یمن کے ساحل کے قریب بحیرۂ احمر میں ایک بھارتی پرچم بردار تجارتی جہاز حملے کا نشانہ بننے کے بعد سمندر برد ہو گیا، تاہم جہاز میں سوار تمام افراد کو بحفاظت ریسکیو کر لیا گیا۔ واقعے کے بعد خطے میں بحری سلامتی اور بین الاقوامی جہاز رانی کے حوالے سے تشویش میں اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔
اطلاعات کے مطابق حملہ اس وقت پیش آیا جب جہاز یمن کے مغربی ساحل کے قریب اپنے معمول کے سفر پر رواں تھا۔ ابتدائی معلومات کے مطابق جہاز کو ایک پروجیکٹائل نے نشانہ بنایا، جس کے باعث اسے شدید نقصان پہنچا اور وہ بعد ازاں سمندر میں ڈوب گیا۔
بھارتی حکام نے تصدیق کی ہے کہ جہاز میں سوار تمام 14 افراد کو بروقت امدادی کارروائی کے ذریعے محفوظ مقام پر منتقل کر دیا گیا۔ عملے میں 13 بھارتی شہری بھی شامل تھے اور خوش قسمتی سے واقعے میں کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔
حکام کا کہنا ہے کہ حملے کی نوعیت اور اس کے ذمہ دار عناصر کے بارے میں تحقیقات جاری ہیں، جبکہ تاحال کسی گروہ یا تنظیم نے اس واقعے کی ذمہ داری قبول نہیں کی ہے۔ سیکیورٹی ادارے واقعے کے تمام پہلوؤں کا جائزہ لے رہے ہیں۔
ماہرین کے مطابق بحیرۂ احمر عالمی تجارت کے لیے نہایت اہم بحری گزرگاہ ہے، جہاں سے روزانہ بڑی تعداد میں تجارتی جہاز گزرتے ہیں۔ حالیہ حملے نے ایک مرتبہ پھر اس اہم سمندری راستے کی سلامتی سے متعلق خدشات کو اجاگر کر دیا ہے، جس کے عالمی تجارت اور سپلائی چین پر بھی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔
عالمی بحری کمپنیوں اور متعلقہ اداروں کی جانب سے خطے میں سیکیورٹی صورتحال پر گہری نظر رکھی جا رہی ہے، جبکہ جہاز رانی سے وابستہ اداروں نے اپنے بحری عملے کو محتاط رہنے اور حفاظتی ہدایات پر سختی سے عمل کرنے کی تلقین کی ہے۔

