اسلام آباد (الفجرآن لائن) جولائی 2026 کے دوران مہنگائی کے اثرات مختلف شعبوں میں مزید نمایاں ہو گئے۔ سرکاری دستاویزات کے مطابق گاڑیوں پر ٹیکس، ٹرانسپورٹ، مواصلات، تعلیم، رہائش اور ادویات سمیت متعدد بنیادی اشیاء اور خدمات کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جس سے شہریوں پر مالی بوجھ مزید بڑھ گیا۔
سرکاری دستاویزات کے مطابق صرف جولائی کے ایک ماہ کے دوران گاڑیوں پر عائد ٹیکس میں 38.68 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جو حالیہ عرصے میں سب سے نمایاں اضافوں میں شمار کیا جا رہا ہے۔
دستاویزات کے مطابق ہر قسم کی ٹرانسپورٹ سالانہ بنیادوں پر 16.47 فیصد مہنگی ہوئی، جبکہ ٹرانسپورٹ سہولیات کی قیمتوں میں 26.10 فیصد تک اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ اسی طرح مواصلاتی خدمات بھی سالانہ بنیادوں پر 9.30 فیصد مہنگی ہو گئیں۔تعلیم کے شعبے میں بھی اخراجات میں اضافہ دیکھنے میں آیا۔
**بچوں کی نصابی کتابوں کی قیمتوں میں جولائی کے دوران 1.12 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جبکہ مجموعی تعلیمی اخراجات میں مزید 0.60 فیصد اضافہ ہوا۔
اس کے علاوہ اخبارات کی قیمتیں سالانہ بنیادوں پر 28.54 فیصد بڑھ گئیں۔رہائشی اخراجات بھی شہریوں کے لیے مزید بوجھ بن گئے۔ دستاویزات کے مطابق ایک ماہ کے دوران رہائشی سہولیات کی قیمتوں میں 3.16 فیصد اضافہ ہوا، جبکہ ادویات کی قیمتوں میں بھی جولائی کے دوران 1.95 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔
ماہرین کے مطابق مختلف شعبوں میں مسلسل بڑھتی ہوئی قیمتیں عام شہریوں کی قوتِ خرید پر منفی اثرات مرتب کر رہی ہیں، جبکہ ٹرانسپورٹ، تعلیم، صحت اور رہائش جیسے بنیادی شعبوں میں اضافی اخراجات مہنگائی کے دباؤ میں مزید اضافہ کر سکتے ہیں

