پرامن تحریک کا رخ موڑ دیا گیا، راجہ امجد علی خان کا ویڈیو بیان میں انکشاف
آزاد کشمیر کے نوجوان گمراہ کن سرگرمیوں سے دور رہیں، عوام سے اپیل
مظفرآباد (الفجر آن لائن) آزاد کشمیر کی کالعدم جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کو اس وقت بڑا دھچکا لگا جب اس کی کور کمیٹی کے رکن راجہ امجد علی خان ایڈووکیٹ نے تنظیم سے مکمل لاتعلقی کا اعلان کر دیا۔
اپنے ویڈیو بیان میں انہوں نے کہا کہ وہ کسی ایسی سرگرمی یا بیانیے کا حصہ نہیں رہ سکتے جو پاکستان اور کشمیر کے رشتے کو نقصان پہنچانے یا نوجوانوں کو انتشار کی طرف دھکیلنے کا سبب بنے۔راجہ امجد علی خان ایڈووکیٹ نے اپنے پیغام میں کہا کہ جس تحریک کو پرامن مقاصد کے لیے شروع کیا گیا تھا، اس کا رخ موڑ کر اسے پاکستان اور کشمیر کے تعلق کو کمزور کرنے کے لیے استعمال کیا گیا۔ ان کے بقول آزاد کشمیر کے سادہ لوح نوجوانوں کو جذباتی نعروں کے ذریعے جیلوں تک پہنچایا گیا، جبکہ پس پردہ مفادات اور ڈیلز کا کھیل جاری رہا۔انہوں نے آزاد کشمیر کے نوجوانوں سے اپیل کی کہ وہ اپنے مستقبل کو ایسی سرگرمیوں کی نذر نہ کریں اور مثبت سیاست کی طرف واپس آئیں۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کے خلاف اٹھنے والی کسی آواز یا کسی قوم پرست تنظیم سے ان کا کوئی تعلق نہیں، اور وہ واضح طور پر ایسے تمام عناصر سے خود کو الگ کرتے ہیں جو بیرونی اشاروں پر آزاد کشمیر میں افراتفری، اشتعال اور تصادم کی فضا پیدا کرنا چاہتے ہیں۔
راجہ امجد علی خان نے عوام سے بھی اپیل کی کہ وہ شرپسند عناصر کے پروپیگنڈے اور گمراہ کن بیانیے سے متاثر نہ ہوں، کیونکہ ایسے عناصر کا عوامی مفاد سے کوئی تعلق نہیں۔ ان کے مطابق بعض حلقوں نے نوجوانوں کے جذبات کو استعمال کرتے ہوئے ایک ایسی فضا بنائی جس کا مقصد خطے میں بے چینی اور بداعتمادی کو ہوا دینا تھا۔سیاسی و قانونی حلقوں کے مطابق امجد علی خان ایڈووکیٹ کی لاتعلقی کالعدم عوامی ایکشن کمیٹی کے لیے ایک بڑا دھچکا تصور کی جا رہی ہے، کیونکہ وہ اس تحریک کے نمایاں اور مؤثر چہروں میں شمار ہوتے تھے۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ ان کی علیحدگی سے نہ صرف تنظیمی سطح پر مشکلات بڑھیں گی بلکہ قانونی اور عوامی سطح پر بھی کمیٹی کی پوزیشن کمزور ہو سکتی ہے، خصوصاً اس لیے کہ امجد علی خان کو اس تحریک کا قانونی مشیر اور اہم ترجمان سمجھا جاتا تھا۔
