باقر قالیباف کا ٹرمپ دھمکیوں پر احتجاج، مذاکراتی عمل متاثر
برگن اسٹاک(الفجرآن لائن) پاکستان کی میزبانی میں سوئٹزرلینڈ کے شہر برگن اسٹاک میں جاری لیک لوزن سمٹ کے دوران امریکا اور ایران کے درمیان اہم تکنیکی مذاکرات کا پہلا دور مکمل ہونے کے بعد عارضی وقفہ کیا گیا ہے، تاہم دوسرے دور کا آغاز تاحال ممکن نہیں ہوسکا۔
ذرائع کے مطابق مذاکرات کے پہلے دور میں فریقین کے درمیان تقریباً 80 منٹ تک براہِ راست اور بالواسطہ بات چیت ہوئی، جس کے بعد وفود نے داخلی مشاورت کا سلسلہ شروع کیا۔ اسی دوران مختلف سطحوں پر سفارتی رابطے بھی جاری رہے، جبکہ ایرانی وفد نے قطر کے نمائندوں سے بھی ملاقات کی۔ایرانی میڈیا رپورٹس کے مطابق ایرانی پارلیمان کے اسپیکر باقر قالیباف کی سربراہی میں وفد نے مذاکرات کے دوران امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے دی گئی مبینہ دھمکیوں پر باقاعدہ احتجاج ریکارڈ کرایا، جس کے بعد ماحول میں کشیدگی پیدا ہوگئی۔
پاکستان کا سفارتی کردار عالمی سطح پر تسلیم، ثالثی میں مزید کردار کی پیشکش زیر غور
فریقین کی جانب سے سفارتی عمل جاری رکھنے اور اختلافات کو بات چیت کے ذریعے کرنے پر اتفاق
کانفرنس ہال میں اعلیٰ سطحی سفارتی سرگرمیوں کے دوران وزیراعظم شہباز شریف، فیلڈ مارشل عاصم منیر اور دیگر اعلیٰ پاکستانی حکام نے شرکت کی۔ امریکی وفد جس کی قیادت نائب صدر جے ڈی وینس کر رہے تھے، جب اجلاس میں پہنچا تو پاکستانی وفد نے ان کا استقبال کیا۔ اس موقع پر قطری وزیراعظم بھی اجلاس میں شریک ہوئے۔ایرانی وفد میں اسپیکر باقر قالیباف اور وزیر خارجہ عباس عراقچی شامل تھے، جبکہ امریکی وفد میں جے ڈی وینس، اسٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر شریک ہوئے۔
امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کے سفارتی کردار کو عالمی سطح پر سراہا گیا ہے اور واشنگٹن خطے میں پائیدار امن کا خواہاں ہے۔ ان کے مطابق صدر ٹرمپ نے مختلف تنازعات کے حل کے لیے سفارتی راستہ اپنانے کی ہدایت دی ہے اور حالیہ مذاکرات میں مثبت پیش رفت دیکھنے میں آئی ہے۔وزیراعظم شہباز شریف نے اس موقع پر کہا کہ صدر ٹرمپ کی قیادت میں یہ مذاکرات ممکن ہوئے ہیں اور پاکستان خطے میں امن و استحکام کے لیے اپنا کردار جاری رکھے گا۔ذرائع کے مطابق فریقین کی جانب سے پاکستان کو مذاکرات میں مزید مرکزی اور ممکنہ طور پر قیادت کا کردار دینے کی پیشکش پر بھی غور کیا گیا ہے، تاہم اس کی باضابطہ تصدیق نہیں ہوسکی۔مذاکرات کے دوران مشرق وسطیٰ کی مجموعی صورتحال، لبنان میں کشیدگی اور علاقائی سلامتی کے امور بھی زیر بحث آئے۔ فریقین نے اس بات پر اتفاق کیا کہ سفارتی عمل کو جاری رکھا جائے گا تاکہ اختلافات کو بات چیت کے ذریعے حل کیا جا سکے
