کوئٹہ(اؒلفجر آن لاین)انجمن تاجران بلوچستان (رجسٹرڈ) کے صدر رحیم آغا نے کہا ہے کہ وزیر داخلہ بلوچستان میر ضیاء اللہ لانگو نے یقین دہانی کرائی تھی کہ بدھ کے روز چیف سیکرٹری بلوچستان کی زیر صدارت اجلاس منعقد ہوگا۔
تاہم بلوچستان اسمبلی کے اجلاس کی مصروفیات کے باعث مذاکرات نہ ہو سکے تاجر برادری نے ہمیشہ افہام و تفہیم کے ذریعے مسائل کے حل کو ترجیح دی ہے، لیکن مسلسل تاخیر اور وعدوں پر عملدرآمد نہ ہونے کے باعث اب صبر کا پیمانہ لبریز ہو چکا ہے۔ 7 اور 8 اگست کو کوئٹہ میں ہونے والی مکمل شٹرڈاؤن ہڑتال کے لیے تمام انتظامات مکمل کر لیے گئے ہیں ہڑتال کا اعلان پہلے ہی کیا جا چکا ہے اور اب حکومت کی جانب سے مطالبات پر سنجیدہ پیش رفت نہ ہونے کی صورت میں اس پر ہر صورت عملدرآمد کیا جائے گا‘۔
انہوں نے یہ بات کوئٹہ شہر کے مختلف بازاروں اور تجارتی تنظیموں کے صدور و جنرل سیکرٹریز کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔ اجلاس میں جنرل سیکرٹری ولی افغان، حاجی داؤد خلجی، حاجی عبدالنافع نورزئی، سید حاجی حضرت آغا، حاجی اسلم ترین، سید حیدر آغا، شفیع آغا، اسد خان ترین، میر بشیر سنجرانی، میر زبیر لہڑی، ولی محمد ترین، ملک محمد حسین شاھوانی، سردار سجاد شاھوانی، حاجی ایوب پرکانی، حاجی محمد اشرف ترین، محمد اکمل خان، سید سمیع آغا، میر ظہور بادینی، لال محمد، اسد خان اچکزئی، سردار اختر سلیمان خیل، مطیع اللہ، سید عبدالغفار آغا، اقبال کاکڑ، ملک حسین محمد شاہوانی، سید رشید آغا، سردار اختر محمد تاجک، خان کاکڑ، قدیم خان، حاجی منیر لانگو، حاجی جلال نورزئی، احمد اللہ، حاجی عبدالقیوم خلجی، محمد امیر حمزہ، سمیت دیگر عہدیداران شریک تھے

