، اپوزیشن اور صوبائی وزرا کا احتجاجا واک آوٹ اسپیکر عبدالخالق اچکزئی کا نوٹس، آئی جی بلوچستان، ڈی آئی جی اور ایس پی خضدار کو طلب کر لیا گیا اراکینِ اسمبلی کا عاصمہ جتک کے خاندان کو تحفظ فراہم کرنے اور ملزمان کو فوری گرفتار کرنے کا شدید مطالبہ
کوئٹہ(الفجر اآن لائن)بلوچستان اسمبلی کا اجلاس منگل کو اسپیکر عبدالخالق اچکزئی کی زیر صدارت 46 منٹ کی تاخیر سے شروع ہوا، جس میں مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی آئینی حیثیت کے خاتمے کے خلاف مشترکہ مذمتی قرارداد متفقہ طور پر منظور کر لی گئی،
جبکہ بلوچستان سیف سٹیز اتھارٹی بل 2026 بھی ایوان سے منظور کر لیا گیا۔ اجلاس کے دوران صوبے کی امن و امان کی صورتحال، دہشت گردی، زیارت، ہنہ اوڑک اور سورنج کے شہدا، نیز خضدار میں عاصمہ جتک کے خاندان سے متعلق واقعے پر بھی تفصیلی بحث ہوئی۔ اجلاس کے آغاز پر اسپیکر عبدالخالق اچکزئی نے مولوی نور اللہ، اشوک کمار، ام کلثوم اور میر اسد اللہ بلوچ کو پینل آف چیئرپرسن کے لیے نامزد کیا،
جبکہ زیارت، ہنہ اوڑک اور سورنج کے شہدا کے ایصالِ ثواب کے لیے فاتحہ خوانی کی گئی۔وزیراعلی بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے صوبائی وزرا اور پارلیمانی سیکریٹریز کی جانب سے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی آئینی حیثیت ختم کیے جانے کے خلاف مشترکہ قرارداد پیش کی، جسے ایوان نے متفقہ طور پر منظور کر لیا۔ قرارداد میں کہا گیا کہ بھارت نے آرٹیکل 370 اور 35 اے ختم کرکے کشمیری عوام کی شناخت، خودمختاری اور بنیادی حقوق سلب کیے ہیں،
جبکہ مقبوضہ کشمیر میں ریاستی جبر، محاصرے، گرفتاریوں اور میڈیا پر پابندیوں میں اضافہ ہوا ہے۔ قرارداد میں وفاقی حکومت سے مطالبہ کیا گیا کہ کشمیری عوام کی قانونی اور سفارتی معاونت کے لیے جامع قومی لائحہ عمل تشکیل دیا جائے۔اجلاس میں صوبائی وزیر داخلہ میر ضیا اللہ لانگو نے بلوچستان سیف سٹیز اتھارٹی آرڈیننس 2026 کو آئین کے آرٹیکل 128(2)(الف) کے تحت نامنظور کرنے سے متعلق آئینی قرارداد پیش کی، جسے متفقہ طور پر منظور کیا گیا۔
بعد ازاں انہوں نے بلوچستان سیف سٹیز اتھارٹی بل 2026 بھی ایوان میں پیش کیا، جسے منظوری دے دی گئی۔کشمیر کے حوالے سے اظہارخیال کرتے ہوئے صوبائی وزیر منصوبہ بندی میر ظہور احمد بلیدی، وزیر صحت بخت محمد کاکڑ، وزیر نور محمد دمڑ، وزیر علی مدد جتک، میر عاصم کردگیلو، میر صادق عمرانی، مشیر کھیل مینا مجید، ڈپٹی اسپیکر غزالہ گولہ اور دیگر اراکین نے بھارتی اقدامات اور کشمیری عوام پر ہونے والے مظالم کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ پاکستانی قوم کشمیریوں کے ساتھ کھڑی ہے اور ان کی سیاسی، سفارتی اور اخلاقی حمایت جاری رکھے گی۔ مقررین نے بلوچستان میں دہشت گردی کے واقعات کی بھی مذمت کی اور شہدا کو خراج عقیدت پیش کیا۔اجلاس کے دوران امن و امان کی صورتحال پر بھی بحث ہوئی۔
رکن اسمبلی زمرک خان اچکزئی نے کہا کہ بلوچستان دہشت گردی کی لپیٹ میں ہے اور قومی شاہراہوں پر گاڑیاں جلائی جا رہی ہیں، جبکہ آنے والے دنوں میں حالات مزید خراب ہونے کا خدشہ ہے۔خضدار میں عاصمہ جتک کے خاندان سے متعلق معاملہ ایوان میں شدت سے اٹھایا گیا۔ رکن اسمبلی میر زابد علی ریکی نے کہا کہ 2024 میں عاصمہ جتک کو اغوا کیا گیا، ان کے منگیتر اور حال ہی میں ان کے والد کو قتل کر دیا گیا، حکومت اس معاملے پر سنجیدگی سے نظرثانی کرے۔ صوبائی وزیر علی مدد جتک نے کہا کہ متاثرہ خاندان کو انصاف ملنا چاہیے، دو روز گزرنے کے باوجود مقدمہ درج نہیں ہوا اور ملزمان کی گرفتاری عمل میں نہیں آئی۔
اسپیکر عبدالخالق اچکزئی نے معاملے کا نوٹس لیتے ہوئے آئی جی پولیس بلوچستان، ڈی آئی جی خضدار اور ایس پی خضدار کو طلب کرنے کی ہدایت کی۔ اپوزیشن لیڈر میر یونس عزیز زہری نے حکومت پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اگر اس واقعے کا نوٹس نہ لیا گیا تو ذمہ داری وزیراعلی اور وزیر داخلہ پر عائد ہوگی۔
انہوں نے بتایا کہ عاصمہ کا ویڈیو بیان سامنے آنے کے دو گھنٹے بعد ان کے والد کو قتل کر دیا گیا۔مولانا ہدایت الرحمان بلوچ نے بھی حکومت کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا اور ڈی آئی جی و ایس پی خضدار کی برطرفی، وزیر داخلہ کے استعفے اور واقعے میں ملوث افراد کے خلاف سخت کارروائی کا مطالبہ کیا۔
انہوں نے بعض بااثر شخصیات پر سنگین الزامات بھی عائد کیے۔خضدار واقعے پر بحث کے بعد صوبائی وزیر علی مدد جتک اور اپوزیشن لیڈر میر یونس عزیز زہری احتجاجا ایوان سے واک آٹ کر گئے۔اجلاس کے اختتام پر اسپیکر نے بلوچستان اسمبلی کا اجلاس 28 اگست تک ملتوی کر دیا

