ماسکو / کیئف ( الفجرآن لائن) مشرقی یوکرین کے محاذ سے اس وقت کی سب سے بڑی اور دھماکہ خیز خبر سامنے آئی ہے۔ روسی وزارتِ دفاع نے باضابطہ اعلان کیا ہے کہ اس کی افواج نے ڈونیٹسک کے انتہائی اسٹریٹجک اور اہم ترین صنعتی و فوجی گڑھ ‘کوسٹیانٹینکا’ () پر مکمل کنٹرول حاصل کر کے یوکرینی دفاع کی کمر توڑ دی ہے۔ روسی چیف آف جنرل اسٹاف جنرل ویلری گیراسیموف نے صدر ولادیمیر پیوٹن کو اس ‘بڑی کامیابی’ کی براہِ راست رپورٹ پیش کر دی ہے، جس کے بعد روسی فوج نے شہر کی تباہ شدہ عمارتوں پر اپنا قومی پرچم لہرانے کی ویڈیوز بھی جاری کر دی ہیں۔
یوکرین کا جوابی وار: "روسی دعویٰ سراسر جھوٹ اور فیک نیوز ہے”
دوسری جانب، یوکرینی جنرل اسٹاف نے روسی فوج کے اس سنسنی خیز دعوے کو یکسر مسترد کرتے ہوئے اسے ایک بڑا پروپیگنڈا قرار دیا ہے۔ یوکرینی حکام کا کہنا ہے کہ شہر اب بھی مکمل طور پر یوکرینی فورسز کے کنٹرول میں ہے اور ان کے جانباز فوجی اگلی لائنوں پر روسی حملوں کا منہ توڑ جواب دے رہے ہیں۔ فوجی ماہرین کے مطابق کوسٹیانٹینکا یوکرین کی دفاعی لائن کا آخری بڑا قلعہ مانا جاتا ہے، جس پر قبضے کی صورت میں روس کے لیے مزید آگے بڑھنے کا راستہ صاف ہو سکتا ہے۔ فی الحال دونوں ممالک کے متضاد دعووں نے جنگی محاذ پر سنسنی پھیلا دی ہے اور شدید لڑائی کا سلسلہ بدستور جاری ہے

