اسلام آباد (الفجرآن لائن) جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے کہ کسی مریض کو مسئلہ درپیش ہو تو اسے فوری حل کرنا چاہیے۔
سپریم کورٹ کا فیصلہ بہت پہلے آ جانا چاہیے تھا، تاہم اب فیصلہ آیا ہے تو ”دیر آئے درست آئے‘۔میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ اب تحریک انصاف نے فیصلہ کرنا ہے کہ وہ احتجاج کرے گی یا اسے ملتوی کرے گی۔
صوبوں کے معاملے پر بحث ہو سکتی ہے، اصولی طور پر ہم نئے یونٹس کے خلاف نہیں ہیں اور ہم نے بہاولپور صوبے کی بھی حمایت کی تھی، تاہم سندھ صوبے کی تقسیم پر راضی نہیں ہے۔
انہوں نے کہا کہ جب پہلے صوبے بنانے کی بات کی جا رہی تھی تو اس وقت اسٹیبلشمنٹ بھی مخالفت کر رہی تھی،ل۔
آج کون سی وحی آ گئی کہ کبھی ملک کو 16 اور کبھی 32 یونٹس میں تقسیم کرنے کی بات کی جا رہی ہے۔
ملک کے اصل مسائل سے توجہ ہٹانے کے لیے صوبوں کا ایشو پھینکا گیا ہے، اس وقت نئے صوبے بنانے کا ماحول نہیں ہے اور پاکستان غیر سنجیدہ گفتگو کا متحمل نہیں ہو سکتا۔
مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ پاکستان کی سرزمین خون سے سرخ ہے، باہر کی دنیا سے تعلقات بہتر کرنے چاہئیں لیکن اپنے گھر کو بھی درست کرنا ہوگا۔
اسلامی دنیا کا بلاک بنانا جمعیت علمائے اسلام کے منشور کا حصہ ہے۔انہوں نے پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) کے بیانات میں تضاد پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ایک دوسرے پر کرپشن کے الزامات لگانے والے آج ایک دوسرے کو جعلی قرار دے رہے ہیں۔
ان کے نزدیک اقتدار اور کرسی اہم ہے۔راولاکوٹ کی صورتحال پر گفتگو کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ ایک طرف کشمیری عوام کا ووٹ لیا جا رہا ہے۔
جبکہ راولاکوٹ میں دو ماہ سے لوگ دھرنے میں بیٹھے ہیں۔
دھرنے میں بیٹھے لوگوں کے مطالبات باغیانہ نہیں ہیں اور ان کے مطالبات ایک بار تسلیم بھی کیے جا چکے ہیں

