واشنگٹن / تہران (ویب ڈیسک): امریکی فوج کے سینٹرل کمانڈ نے ایران کی جنوبی ساحلی پٹی پر واقع فوجی تنصیبات پر شدید فضائی حملوں کا ایک نیا سلسلہ شروع کر دیا ہے۔ ان تازہ حملوں کے بعد خطے میں دونوں ممالک کے درمیان قائم 60 روزہ عارضی جنگ بندی کا معاہدہ مکمل طور پر ختم ہو گیا ہے اور مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی انتہائی خطرناک حد تک بڑھ گئی
امریکی دفاعی حکام کے مطابق یہ کارروائی آبنائے ہرمز میں تجارتی تیل کے ٹینکرز پر ایرانی میزائل اور ڈرون حملوں کے جواب میں کی گئی ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ عارضی امن معاہدہ اب ختم ہو چکا ہے، جس کے ساتھ ہی واشنگٹن نے ایران کو عالمی منڈی میں خام تیل فروخت کرنے کی دی گئی عارضی اجازت بھی منسوخ کر دی ہے۔ امریکی طیاروں اور بحری جہازوں نے ایرانی پاسدارانِ انقلاب کے فضائی دفاعی نظام، ساحلی نگرانی کے نیٹ ورکس، اینٹی شپ کروز میزائل لانچنگ پیڈز اور ڈرون اڈوں سمیت 80 سے زائد ٹھکانوں کو نشانہ بنایا ہے۔
ایرانی سرکاری میڈیا (فارس اور مہر نیوز ایجنسیز) نے تصدیق کی ہے کہ ملک کے جنوبی ساحلی صوبے ہرمزگان میں 13 سے زائد زوردار دھماکے سنے گئے ہیں۔ بندر عباس میں شاہد حقانی بندرگاہ کے قریب سے شدید آگ اور نارنجی دھواں اٹھتا ہوا دیکھا گیا ہے، جبکہ سیریک کے ساحل پر ایک تجارتی گھاٹ کو شدید نقصان پہنچا ہے جہاں متعدد مقامی ماہی گیر اور شہری بمیوں کے ٹکڑے لگنے سے زخمی ہوئے ہیں۔ اس کے علاوہ چاہ بہار اور قشم جزیرے کے متعدد علاقوں میں بجلی کا نظام درہم برہم ہو گیا ہے اور وسیع پیمانے پر بلیک آؤٹ کی اطلاعات ہیں۔

