زیارت کے شہید پولیس اہلکاروں اور ہنہ اوڑک کے متاثرین کا احتجاج، تدفین مخر، انصاف اور تحفظ کا مطالبہ
صوبائی دارالحکومت میں سکیورٹی ہائی الرٹ، دھرنوں کے باعث اہم شاہراہیں بند، شہریوں کو شدید مشکلات
کوئٹہ(الفجر آن لائن)بلوچستان کے صوبائی دارالحکومت کوئٹہ میں زیارت اور ہنہ اوڑک کے سانحات کے خلاف احتجاج میں شدت آ گئی ہے۔ زیارت میں مسلح حملے میں شہید ہونے والے پولیس اہلکاروں کے ورثا نے لاشیں سڑک پر رکھ کر احتجاجی دھرنا دے دیا، جبکہ ہنہ اوڑک کے شہدا کے لواحقین بھی پانچویں روز ایئرپورٹ روڈ پر دھرنا جاری رکھے ہوئے ہیں۔
دونوں مقامات پر جاری احتجاج کے باعث شہر کا ٹریفک نظام بری طرح متاثر ہو گیا ہے، جبکہ سکیورٹی خدشات کے پیش نظر پورے شہر میں حفاظتی انتظامات مزید سخت کر دیے گئے ہیں۔ذرائع کے مطابق گزشتہ رات سول ہسپتال کوئٹہ منتقل کی گئی 21 شہدا کی میتیں ورثا کے حوالے کر دی گئیں، جن میں سے آٹھ شہدا کی میتیں ان کے آبائی علاقوں کو روانہ کر دی گئیں، جبکہ 14 شہدا کی میتیں کوئلہ پھاٹک کے قریب سڑک پر رکھ کر لواحقین نے احتجاجی دھرنا شروع کر دیا۔
مظاہرین نے مطالبہ کیا کہ واقعے میں ملوث عناصر کو فوری گرفتار کرکے کیفرِ کردار تک پہنچایا جائے، لاپتہ اہلکاروں کی بازیابی یقینی بنائی جائے اور متاثرہ خاندانوں کو انصاف فراہم کیا جائے۔دوسری جانب سانحہ ہنہ اوڑک کے شہدا کے لواحقین ایئرپورٹ روڈ پر پانچویں روز بھی دھرنے پر بیٹھے ہوئے ہیں۔ احتجاج کے باعث شہدا کی تدفین تاحال نہیں ہو سکی۔ مظاہرین کا کہنا ہے کہ جب تک ان کے مطالبات تسلیم نہیں کیے جاتے اور ذمہ داروں کے خلاف مثر کارروائی نہیں ہوتی، اس وقت تک احتجاج جاری رہے گا۔
دونوں احتجاجی مقامات شہر میں تقریبا نصف کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہیں، جس کے باعث ٹریفک کا نظام شدید متاثر ہو گیا ہے۔ کوئلہ پھاٹک، ایئرپورٹ روڈ، سمنگلی روڈ اور ملحقہ شاہراہوں پر گاڑیوں کی طویل قطاریں لگ گئیں، جبکہ دوسرے دھرنے کے آغاز کے بعد سمنگلی روڈ سے شہر کی جانب آنے والی ٹریفک بھی مکمل طور پر بند ہو گئی۔ شہریوں، مریضوں، طلبہ اور مسافروں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ادھر ممکنہ سکیورٹی خدشات کے پیش نظر کوئٹہ میں پولیس، لیویز، ایف سی اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کی اضافی نفری تعینات کر دی گئی ہے۔ حساس مقامات، سرکاری تنصیبات اور اہم شاہراہوں پر نگرانی مزید سخت کر دی گئی ہے، جبکہ ٹریفک پولیس متبادل راستوں پر ٹریفک کی روانی برقرار رکھنے کی کوششوں میں مصروف ہے

