نواب ذوالفقار علی مگسی کی قبائلی افراد کو چوکس رہنے کی ہدایت، حساس مقامات کی نگرانی بڑھا دی گئی
جھل مگسی(الفجر آن لائن)ضلع جھل مگسی میں ماضی کے پے درپے حملوں کے بعد ایک مرتبہ پھر سکیورٹی خدشات میں اضافے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔ ذرائع کے مطابق ضلع میں ایک اور ممکنہ حملے کے خدشے کے پیش نظر سکیورٹی الرٹ جاری کیا گیا ہے، جس کے بعد علاقے میں تشویش کی فضا پائی جا رہی ہے جبکہ حساس مقامات کی نگرانی اور حفاظتی اقدامات مزید سخت کیے جا رہے ہیں۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ تازہ اطلاعات کے مطابق کسی بھی وقت جھل مگسی میں حالات کشیدہ ہونے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے، جس کے باعث مقامی سطح پر سکیورٹی سرگرمیوں میں اضافہ کر دیا گیا ہے۔ تاہم اس حوالے سے متعلقہ حکام کی جانب سے تاحال کوئی باضابطہ تصدیق یا تفصیلی بیان جاری نہیں کیا گیا۔
اس سے قبل بھی ضلع جھل مگسی دہشت گرد حملوں کی زد میں آ چکا ہے، جہاں حملہ آوروں نے سابق گورنر بلوچستان نواب ذوالفقار علی مگسی کی جانب سے تعمیر کرائے گئے گورنر ہاس کو نشانہ بنا کر آگ لگا دی تھی، جبکہ اس حملے کے دوران بعض پولیس اہلکاروں کے اغوا کیے جانے کی اطلاعات بھی سامنے آئی تھیں، جس کے بعد علاقے میں بڑے پیمانے پر سکیورٹی آپریشن اور حفاظتی اقدامات کیے گئے تھے۔
ذرائع کے مطابق موجودہ صورتحال کے پیش نظر سابق گورنر بلوچستان اور قبائلی رہنما نواب ذوالفقار علی مگسی نے مگسی قبیلے کے افراد کو ہر وقت چوکس رہنے، احتیاطی تدابیر اختیار کرنے اور اپنی حفاظت یقینی بنانے کی ہدایت کی ہے تاکہ کسی بھی ممکنہ ناخوشگوار صورتحال سے بروقت نمٹا جا سکے۔دوسری جانب سکیورٹی ادارے بھی صورتحال پر کڑی نظر رکھے ہوئے ہیں اور کسی بھی ممکنہ خطرے سے نمٹنے کے لیے گشت میں اضافے، حساس مقامات کی نگرانی اور دیگر حفاظتی انتظامات کو مزید مثر بنایا جا رہا ہے۔
علاقے کے عوام نے حکومت اور قانون نافذ کرنے والے اداروں سے مطالبہ کیا ہے کہ شہریوں کے جان و مال کے تحفظ کو یقینی بنانے، امن و امان برقرار رکھنے اور کسی بھی ممکنہ حملے کی روک تھام کے لیے فوری اور مثر اقدامات کیے جائیں تاکہ عوام میں پائی جانے والی بے چینی کا خاتمہ ہو سکے۔

