لاہور (الفجرآن لائن) سینٹر فار ایرواسپیس اینڈ سیکیورٹی اسٹڈیز () لاہور کے زیراہتمام "بھارت کے اسٹریٹجک کلچر کا زعفرانی رنگ: معاصر تبدیلی اور مستقبل کا منظرنامہ” کے عنوان سے ایک خصوصی فکری نشست کا انعقاد کیا گیا۔ اس علمی سیمینار میں ملک بھر سے ممتاز ماہرینِ تعلیم، دانشوروں اور دفاعی امور کے ماہرین نے شرکت کی۔ تقریب کا آغاز ریسرچ اسسٹنٹ ازبہ ولایت خان کے خیرمقدمی کلمات سے ہوا، جس کے بعد مقررین نے مودی دور حکومت میں بھارتی فوجی اور سفارتی حکمتِ عملی میں آنے والی نظریاتی تبدیلیوں کا گہرا تجزیہ پیش کیا۔
تقریب سے خطاب کرتے ہوئے سینٹر فار انٹرنیشنل اسٹریٹجک اسٹڈیز آزاد جموں و کشمیر کی ایگزیکٹو ڈائریکٹر ڈاکٹر عاصمہ خواجہ نے کہا کہ بھارتی جنگی سوچ پر ہندوتوا اور تاریخ پسندی کے گہرے اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔ انہوں نے بھارتی اسٹریٹجک کلچر کو توسیع پسندانہ اور ہندو بالادستی پر مبنی قرار دیتے ہوئے کہا کہ بھارت توازنِ طاقت کے بجائے خطے پر تسلط چاہتا ہے۔ یونیورسٹی آف رچرڈز کے شعبہ بین الاقوامی تعلقات کے سربراہ ڈاکٹر بلال غضنفر نے اپنے خطاب میں واضح کیا کہ وزیر اعظم مودی کے دور میں بھارت نے جان بوجھ کر اپنے فوجی، سفارتی اور ابلاغی ڈھانچے کو ہندوتوا نظریات کے سانچے میں ڈالا ہے، جس کی وجہ سے بھارتی فوج میں تزویراتی لچک ختم ہو رہی ہے اور مستقبل میں کسی بھی بحران کے دوران غلط فہمیوں کا خطرہ بڑھ گیا ہے۔
سیمینار کے دوران ماہرین نے حالیہ فوجی تنازع "معرکہِ حق” کو بھارت کی نئی جنگی حکمتِ عملی کے لیے ایک ناکام ٹیسٹ قرار دیا۔ مقررین کا کہنا تھا کہ اس بحران نے مودی حکومت کی فوجی منصوبہ بندی کے کھوکھلے پن کو بے نقاب کیا۔ ڈاکٹر بلال غضنفر اور پریذیڈنٹ سی اے ایس ایس ائیر مارشل (ر) عاصم سلیمان نے پاک فضائیہ کی کارکردگی کو سراہتے ہوئے کہا کہ ائیر چیف مارشل بابر سدھو کی قیادت میں پاک فضائیہ نے آپریشنل برتری ثابت کی۔ پاکستان نے جنگی صلاحیت کے باوجود انتہائی ذمہ داری اور تحمل کا مظاہرہ کیا اور بھارت کو مزید بڑے نقصان سے بچنے کا موقع دیا۔
ائیر مارشل (ر) عاصم سلیمان نے اپنے اختتامی کلمات میں تشویش کا اظہار کیا کہ بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) "پروجیکٹ اودبھو” اور "اگنپتھ اسکیم” جیسے منصوبوں کے ذریعے بھارتی فوج کو آر ایس ایس کے نظریات کے تابع کر رہی ہے۔ انہوں نے نشاندہی کی کہ انتہا پسندی کی اس لہر کی وجہ سے عالمی سطح پر بھارت کی ساکھ کو شدید نقصان پہنچا ہے، جس کی واضح مثال پینٹاگون کی جانب سے اپنے بحرالکاہل کمانڈ کا نام بحال کرنا ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ بھارت کے اس غیر متوقع اور انتہا پسندانہ رویے کے پیشِ نظر پاکستان کو اپنی دفاعی صلاحیتوں، چوکسی اور جنگی ردِعمل کو ہمیشہ تیار رکھنے کی ضرورت ہے۔ سیمینار کا اختتام سوال و جواب کے ایک سیشن پر ہوا جس میں شرکاء نے سی اے ایس ایس لاہور کی اس علمی کاوش کو سراہا

