کوئٹہ: بلوچستان کے دارالحکومت میں کسٹمز گودام سے کروڑوں روپے مالیت کی چاندی غائب کرنے کے سنسنی خیز کیس میں وفاقی تحقیقاتی ادارے (FIA) نے بڑی کامیابی حاصل کر لی ہے۔ ایف آئی اے نے کارروائی کرتے ہوئے سابق کلکٹر کسٹمز سمیت مزید 5 اہم کرداروں کو ہتھکڑیاں لگا دی ہیں، جبکہ ملزمان کے قبضے سے چوری شدہ چاندی کا بڑا حصہ اور لاکھوں روپے کی نقدی بھی برآمد کر لی گئی ہے۔
سیسے کے جعلی بسکٹس سے اصل چاندی کی تبدیلی کا انکشاف
تحقیقاتی حکام کے مطابق یہ ہائی پروفائل کرپشن کیس رواں سال اپریل میں اس وقت سامنے آیا جب سرکاری تحویل میں رکھی گئی 400 کلو گرام خالص چاندی کو انتہائی ہوشیاری سے سیسے (Lead) کے جعلی بسکٹس سے تبدیل کر دیا گیا تھا۔ ایف آئی اے کی خصوصی تکنیکی ٹیم نے روایتی تفتیش کے بجائے جدید ڈیجیٹل فرانزک اور خفیہ انٹیلی جنس ڈیٹا کا سہارا لیا، جس کے بعد سرکاری املاک میں خورد برد اور اسمگلنگ کی دفعات کے تحت باقاعدہ مقدمہ درج کیا گیا۔
سابق کلکٹر کی گرفتاری اور برآمدگی کی تفصیلات
ترجمان ایف آئی اے نے تصدیق کی ہے کہ تازہ ترین کارروائی میں کسٹمز کے سابق اعلیٰ افسر کلکٹر ڈاکٹر کرم الٰہی سمیت 5 ملزمان کو گرفتار کیا گیا ہے۔ اس سے قبل محکمے کے 2 پریونٹیو افسران کو پہلے ہی جیل بھیجا جا چکا ہے۔ حکام نے تازہ چھاپوں کے دوران ملزمان کے ٹھکانوں سے 214 کلو گرام چوری شدہ چاندی اور 49 لاکھ روپے نقد رقم اپنے قبضے میں لے لی ہے۔
ریمانڈ منظور، مفرور انسپکٹرز کی تلاش تیز
عدالت نے ایف آئی اے کی استدعا پر گرفتار ہونے والے تمام نئے ملزمان کا جسمانی ریمانڈ منظور کر لیا ہے تاکہ چوری کی باقی ماندہ چاندی اور دیگر سہولت کاروں کا پتہ لگایا جا سکے۔ حکام کا کہنا ہے کہ کیس میں نامزد کسٹمز کے 2 انسپکٹرز سمیت دیگر مفرور ملزمان تاحال روپوش ہیں، جن کی گرفتاری کے لیے ٹیمیں تشکیل دے دی گئی ہیں اور مختلف شہروں میں چھاپے مارے جا رہے ہیں

