کراچی( الفجرآن لائن)پاکستان میں کرپٹو کرنسی کو قانونی دائرہ کار میں لانے کی حکومتی کوششوں کو اس وقت شدید دھچکا پہنچا جب ملک کے معروف دینی ادارے جامعہ دارالعلوم کراچی نے ایک تفصیلی فتوے میں تمام ڈیجیٹل کرنسیوں بشمول اسٹیبل کوائنز جیسے کو غیر شرعی اور حرام قرار دے دیا۔ اس فتوے کے بعد پاکستان ورچوئل اثاثہ جات ریگولیٹری اتھارٹی کے چیئرمین بلال بن ثاقب نے ممتاز عالم دین مفتی محمد تقی عثمانی سے ہنگامی ملاقات کی ہے، جس میں انہوں نے ہر قسم کے ڈیجیٹل اثاثے پر یکسر پابندی کے بجائے ان کی نوعیت کے حساب سے شرعی رہنمائی فراہم کرنے کی اپیل کی ہے تاکہ ملک میں ڈیجیٹل معیشت کی ترقی متاثر نہ ہو

