اسلام آباد ( الفجرآن لائن) وفاقی آئینی عدالت نے مارگلہ ہلز پر واقع مشہور مونال ریسٹورنٹ کو مسمار کرنے کا فیصلہ مستقل طور پر منسوخ کرتے ہوئے 8 صفحات پر مشتمل تفصیلی تحریری حکم نامہ جاری کر دیا ہے۔
عدالت نے اپنے فیصلے میں واضح کیا ہے کہ سپریم کورٹ کا اگست 2024 کا فیصلہ قانونی طور پر برقرار نہیں رکھا جا سکتا کیونکہ اس
میں متاثرہ فریقین کو اپنے دفاع کا منصفانہ موقع فراہم نہیں کیا گیا، جس سے عدالتی دائرہ اختیار سے تجاوز اور انصاف کا قتل ہوا۔
جسٹس حسن اظہر رضوی کے تحریر کردہ فیصلے میں کہا گیا ہے کہ مونال ریسٹورنٹ کی لیز اور زمین کی ملکیت کا تنازع پہلے ہی سول کورٹ میں زیر سماعت () تھا۔
اس کے باوجود، سول کورٹ کا فیصلہ آنے سے قبل ہی اسلام آباد ہائی کورٹ اور بعد ازاں سپریم کورٹ نے آئینی درخواستوں پر حتمی ریمارکس دیے، جو کہ عدالتی طریقہ کار کے منافی تھا۔
آئینی عدالت نے حکم دیا ہے کہ زمین کی ملکیت اور لیز کی رقم سے متعلق تمام تنازعات کا فیصلہ اب سول کورٹ قانون کے مطابق آزادانہ طور پر کرے گی۔
عدالت نے کیپٹل ڈیولپمنٹ اتھارٹی () اور میٹروپولیٹن کارپوریشن اسلام آباد () کی نظرثانی اپیلیں منظور کرتے ہوئے کہا کہ اعلیٰ عدلیہ نے شواہد ریکارڈ کیے بغیر ہی حتمی نتائج اخذ کر لیے تھے۔
تحریری فیصلے میں مزید کہا گیا ہے کہ ججز کے حلف کا تقاضا آئین اور قانون کا تحفظ ہے، اور ماضی کے فیصلوں میں موجود غلطیوں کو سدھارنا ججز کی بنیادی ذمہ داری ہے۔
عدالت نے مارگلہ ہلز کی تمام لیز منسوخ کرنے کے سابقہ فیصلے کو قانون کے خلاف قرار دیتے ہوئے جمع شدہ کرایہ وائلڈ لائف بورڈ کو دینے کا حکم بھی کلعدم کر دیا ہے

