مالی نظم و ضبط اور مؤثر معاشی حکمتِ عملی کے باعث قرضہ برائے جی ڈی پی تناسب 68.5 فیصد تک آگیا
اسلام آباد (الفجرآن لائن) حکومت کی مؤثر معاشی اور مالیاتی حکمتِ عملی کے نتیجے میں پاکستان نے ملکی تاریخ میں پہلی بار 4,722 ارب روپے (تقریباً 17 ارب امریکی ڈالر) سے زائد قرضہ مقررہ مدت سے قبل واپس کر کے مالی نظم و ضبط اور اقتصادی استحکام کی جانب ایک اہم سنگِ میل عبور کر لیا ہے۔ حکومتی حلقوں کے مطابق قرضوں کی قبل از وقت ادائیگی سے نہ صرف مالیاتی بوجھ میں کمی آئی ہے بلکہ سرمایہ کاروں کے اعتماد اور ملکی اقتصادی ساکھ کو بھی تقویت ملی ہے۔وزیرِ خزانہ کے مشیر برائے معاشی امور خرم شہزاد نے بتایا کہ پاکستان اب تک مجموعی طور پر 4,722 ارب روپے کا قرضہ قبل از وقت واپس کر چکا ہے۔
ان کے مطابق صرف مالی سال 2025-26 کے دوران اب تک 2,900 ارب روپے کا قرضہ مقررہ مدت سے پہلے ادا کیا گیا، جو گزشتہ مالی سال کے اسی عرصے کے مقابلے میں 62 فیصد زیادہ ہے۔خرم شہزاد نے کہا کہ قبل از وقت واپس کیے گئے قرضوں میں 51 فیصد اسٹیٹ بینک آف پاکستان جبکہ 49 فیصد دیگر مالیاتی اداروں کا قرض شامل ہے۔ انہوں نے بتایا کہ مؤثر قرض نظم و نسق اور بہتر مالیاتی پالیسیوں کے باعث پاکستان کا قرضہ برائے جی ڈی پی تناسب 75 فیصد سے کم ہو کر تقریباً 68.5 فیصد رہ گیا ہے۔انہوں نے کہا کہ بہتر انتظامی حکمتِ عملی اور مالیاتی نظم و ضبط کے نتیجے میں سرمایہ کاروں کا اعتماد مزید مستحکم ہوا ہے، جبکہ پاکستان ایک مضبوط، پائیدار اور کم لاگت مالیاتی نظام کی جانب تیزی سے پیش رفت کر رہا ہے۔#/s#

