، زیرو پوائنٹ پر دھرنا، ڈیرہ اللہ یار،صحبت پور شاہراہ بندایری گیشن حکام پر پانی فروخت کرنے اور غیر قانونی چوری کا الزام، وزیر ایری گیشن کو ہٹانے کا مطالبہ
جعفرآباد(الفجر آن لائن) جعفرآباد میں نہری پانی کی عدم فراہمی کے خلاف کسان، زمیندار اور شہری سراپا احتجاج بن گئے۔
ایم پی اے عبدالمجید بادینی اور زمیندار میر نصیب اللہ کھوسہ کی قیادت میں الگ الگ احتجاجی مظاہرے کیے گئے، بعد ازاں ایم پی اے کی اپیل پر دونوں احتجاج ایک ہی دھرنے میں تبدیل ہوگئے۔
سینکڑوں کسانوں نے ایم پی اے عبدالمجید بادینی کی قیادت میں زیرو پوائنٹ پر احتجاجی کیمپ قائم کیا، جبکہ میر نصیب اللہ کھوسہ کی قیادت میں جھڈیر شاخ پل پر ٹائر جلا کر ڈیرہ اللہ یار۔
صحبت پور شاہراہ بلاک کر دی گئی۔
بعد ازاں جھڈیر شاخ کے مظاہرین بھی زیرو پوائنٹ پر جاری مرکزی دھرنے میں شامل ہوگئے، جہاں نہری پانی کی عدم فراہمی کے خلاف شدید نعرے بازی کی گئی۔
اس موقع پر ایم پی اے عبدالمجید بادینی نے الزام عائد کیا کہ پٹ فیڈر کینال سے جعفرآباد کو اس کا مقررہ نہری پانی فراہم نہیں کیا جا رہا، جبکہ محکمہ آبپاشی کے بعض افسران نصیرآباد کے بااثر زمینداروں کو پانی فروخت کر رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ پانی کی شدید قلت کے باعث جعفرآباد کا ایک لاکھ 52 ہزار ایکڑ کمانڈ ایریا بنجر ہونے کے خطرے سے دوچار ہے۔
انہوں نے مزید الزام لگایا کہ وزیر آبپاشی کی ایما پر غیر قانونی پائپ لائنوں کے ذریعے پانی چوری کیا جا رہا ہے، جس کے باعث علاقے کے کاشتکار شدید مشکلات کا شکار ہیں۔
مظاہرین نے مطالبہ کیا کہ نہری پانی کی فوری فراہمی یقینی بنائی جائے، پانی چوری میں ملوث عناصر کے خلاف کارروائی کی جائے اور وزیر آبپاشی کو عہدے سے ہٹایا جائے۔
احتجاج کے باعث علاقے میں ٹریفک کی آمدورفت بھی متاثر رہی۔

