شنگھائی (الفجرآنلائن) پاکستان کے نائب وزیر اعظم اور وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار نے چین کے شہر شنگھائی میں منعقدہ "ورلڈ آرٹیفیشل انٹیلیجنس کانفرنس 2026” کی افتتاحی تقریب میں شرکت کی ہے۔ نائب وزیر اعظم اپنے چینی ہم منصب وانگ ای کی دعوت پر 16 سے 17 جولائی تک چین کے دو روزہ سرکاری دورے پر ہیں۔ شنگھائی پہنچنے پر بلدیاتی حکام اور پاکستانی سفارتی عملے نے ان کا پُرتپاک استقبال کیا۔
اس دورے کا سب سے اہم سنگ میل پاکستان کا نو تشکیل شدہ "ورلڈ آرٹیفیشل انٹیلیجنس کوآپریشن آرگنائزیشن” میں بطور بانی رکن شامل ہونا ہے۔ نائب وزیر اعظم اسحاق ڈار نے پاکستان کی جانب سے اس بین الاقوامی ادارے کے قیام کے معاہدے پر دستخط کیے۔ چین کی جانب سے تجویز کردہ یہ عالمی ادارہ آرٹیفیشل انٹیلیجنس کے محفوظ استعمال، ڈیجیٹل خودمختاری اور رکن ممالک کے درمیان مساوی حقوق کے فروغ کے لیے کام کرے گا۔
کانفرنس کے اعلیٰ سطح کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے سینیٹر اسحاق ڈار نے عالمی سطح پر آرٹیفیشل انٹیلیجنس کی منصفانہ گورننس پر زور دیا۔ انہوں نے ترقی پذیر ممالک کے لیے ٹیکنالوجی کی منتقلی، تکنیکی صلاحیتوں میں اضافے اور عالمی ڈیجیٹل تقسیم کو ختم کرنے کی ضرورت پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان مستقبل کی ٹیکنالوجی کو اپنے پائیدار ترقیاتی اہداف کے حصول کے لیے استعمال کرنے کے لیے پرعزم ہے۔
کانفرنس کی سائیڈ لائنز پر نائب وزیر اعظم اسحاق ڈار نے چینی وزیر خارجہ وانگ ای اور دیگر عالمی رہنماؤں سے ملاقاتیں بھی کیں۔ ان ملاقاتوں میں پاک چین اسٹریٹجک شراکت داری، سی پیک کے تحت تکنیکی تعاون اور خطے کی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ چینی صدر شی جن پنگ نے بھی کانفرنس کی افتتاحی تقریب سے خصوصی خطاب کیا، جس میں انہوں نے عالمی تکنیکی تعاون کو بڑھانے کے عزم کا اعادہ کیا۔

