واشنگٹن/تہران( الفجرآن لائن) : امریکہ اور ایران کے درمیان جاری براہ راست کشیدگی ساتویں مسلسل رات بھی شدید بمباری کے ساتھ ایک نئے اور خطرناک مرحلے میں داخل ہو گئی ہے۔ دونوں ممالک نے اب فوجی ٹھکانوں کے ساتھ ساتھ ایک دوسرے کے اہم ترین سویلین اور اقتصادی انفراسٹرکچر کو نشانہ بنانا شروع کر دیا ہے۔ اس شدید تنازعے کے باعث آبنائے ہرمز اور بحیرہ احمر میں تجارتی جہاز رانی مکمل طور پر مفلوج ہو کر رہ گئی ہے، جس نے عالمی اقتصادیات کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔
امریکی سنٹرل کمانڈ نے ایران کے جنوبی ساحلی اور بندرگاہی شہروں بندر عباس، بندر خمیر اور چابہار میں بڑے پیمانے پر فضائی کارروائیوں کا آغاز کیا ہے۔ امریکی بمباری سے ایران کی اہم شاہراہیں، ریلوے پل، بجلی کے پاور ہاؤسز، اور چابہار بندرگاہ پر قائم میری ٹائم سرویلنس ٹاور تباہ ہو چکے ہیں۔ دوسری جانب ایرانی پاسداران انقلاب نے جوابی کارروائی کرتے ہوئے خلیجی ممالک میں موجود امریکی اثاثوں اور اتحادیوں کے انفراسٹرکچر پر میزائل اور ڈرون حملے کیے ہیں، جس کے نتیجے میں کویت میں پانی صاف کرنے والے ایک بڑے پلانٹ اور بجلی گھر کو شدید نقصان پہنچا ہے۔
اس جنگی صورتحال کے باعث دنیا کی اہم ترین بحری گزرگاہ آبنائے ہرمز سے گزرنے والے تجارتی جہازوں کی تعداد تاریخ کی کم ترین سطح پر آ گئی ہے۔ امریکہ نے ایرانی بندرگاہوں کی مکمل بحری ناکہ بندی کر دی ہے، جبکہ ایران نے آبنائے ہرمز کو بین الاقوامی ٹریفک کے لیے بند کرتے ہوئے وہاں سے گزرنے والے جہازوں پر حملے شروع کر دیے ہیں۔ بحری راستوں کی اس بندش اور یمن کے حوثی باغیوں کی جانب سے بحیرہ احمر میں ممکنہ ناکہ بندی کی دھمکیوں کے باعث عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں فوری طو رپر 3 فیصد اضافہ ہو گیا ہے، جس سے دنیا بھر میں توانائی کے بحران کا شدید خطرہ پیدا ہو گیا

