کوئٹہ (الفجرآن لائن) زیارت کے منگی ڈیم پر ہونے والے دہشتگرد حملے کی تحقیقات کے لیے قائم کمیشن کی کھلی عدالت میں اہم سماعت ہوئی۔ بلوچستان ہائیکورٹ کے فاضل جج جسٹس محمد عامر نواز رانا کی زیر نگرانی قائم تحقیقاتی کمیشن کے روبرو آئی جی بلوچستان محمد طاہر اور اے آئی جی لیگل پیش ہوئے۔ سماعت کے دوران آئی جی بلوچستان نے واقعے سے متعلق تفصیلی رپورٹ اور متعلقہ دستاویزات کمیشن میں جمع کرائیں، جسے ریکارڈ کا حصہ بنا لیا گیا۔ شہداء کے لواحقین کے لیے ویلفیئر پیکیج اور تعلیمی اقداماتآئی جی بلوچستان نے کمیشن کو شہداء کے ورثاء کے لیے منظور شدہ امدادی پیکیج پر بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ لواحقین کو تنخواہ، مالی معاوضہ اور تمام مقررہ مراعات کی فراہمی یقینی بنائی جا رہی ہے۔
اس کے علاوہ ہر شہید کے خاندان سے ایک حقدار فرد کو سرکاری ملازمت دی جائے گی، جبکہ یتیم اور زیر کفالت بچوں کے تعلیمی سلسلہ کو جاری رکھنے کے لیے بلوچستان ایجوکیشن اینڈوومنٹ فنڈ کے ذریعے خصوصی اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ آئی جی کا کہنا تھا کہ مستقبل میں ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے مؤثر سیکیورٹی تدابیر اپنائی جا رہی ہیں۔پولیس افسران کی کمی اور کمیشن کا اظہارِ تشویشدورانِ سماعت بلوچستان میں پی ایس پی کیڈر کے 49 عہدے خالی ہونے کا انکشاف ہوا۔ آئی جی بلوچستان نے بتایا کہ اس معاملے سے وفاقی حکومت کو تحریری طور پر آگاہ کر دیا گیا ہے۔ کمیشن نے صوبے میں پولیس افسران کی اتنی بڑی تعداد میں کمی پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پولیس عوام کے جان و مال کے تحفظ کا بنیادی ادارہ ہے۔
کمیشن نے ہدایت کی کہ بلوچستان پولیس کی کارکردگی بہتر بنانے کے لیے اسے جدید اسلحہ، جدید ترین آلات اور تمام ضروری سہولیات فوری فراہم کی جائیں۔تحقیقاتی رابطہ ٹیم اور آئندہ سماعت کا طریقہ کارتحقیقات میں بہتری کے لیے کمیشن نے اچھی شہرت رکھنے والے باخبر اور تجربہ کار افسران پر مشتمل پولیس رابطہ ٹیم تشکیل دینے کی ہدایت کی، جس پر پولیس حکام نے کمیشن کے ساتھ مکمل تعاون کی یقین دہانی کرائی۔ سماعت میں زیارت، لورالائی اور سنجاوی سے شہداء کے لواحقین اور گواہان بھی روبرو پیش ہوئے۔کمیشن نے گواہان اور لواحقین کی رجسٹریشن 3 ستمبر تک مکمل کرنے کا حکم دیا ہے، جبکہ شہداء کے وکلاء کو پولیس رپورٹ کی نقل فراہم کر دی گئی ہے جو آئندہ سماعت پر اپنا جواب جمع کرائیں گے۔ کیس کی مزید سماعت 7 ستمبر کو دوپہر 1:00 بجے ہوگی، جہاں ایڈیشنل اٹارنی جنرل کی جانب سے مختصر رپورٹ پیش کی جائے گی۔

