لاہور(الفجر آن لائن ):پبلک اکاؤنٹس کمیٹی ون نے سرکاری تعمیراتی منصوبوں میں مقررہ معیار سے کمزور اور چھوٹی اینٹوں سمیت غیر معیاری تعمیراتی میٹریل کے استعمال کا نوٹس لیتے ہوئے مکمل تحقیقات اور ذمہ داروں کے تعین کی ہدایت کردی۔
آڈٹ کے دوران مختلف ڈویژنز میں تعمیراتی منصوبوں میں اینٹوں کے معیار اور سائز سے متعلق خلاف ورزیوں کی نشاندہی ہوئی۔ آڈٹ کے مطابق متعدد منصوبوں میں مقررہ معیار کے بجائے ایسی اینٹیں استعمال کی گئیں جن کی مضبوطی 2000 پی ایس آئی کے مقررہ معیار سے کم تھی، جبکہ اینٹوں کا سائز بھی مطلوبہ معیار پر پورا نہیں اترتا تھا۔ تعمیراتی کام میں مقررہ 9 انچ سائز کے بجائے چھوٹی اینٹیں استعمال
کیے جانے کا بھی انکشاف ہوا پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کےمطابق ایس معاملات آٹھ تعمیراتی منصوبوں کے کیسز میں سامنے آئے، جن کے باعث قومی خزانے کو 4 کروڑ 54 لاکھ 87 ہزار 450 روپے کا نقصان پہنچنے پر ریکوری کی نشاندہی کی گئی۔
کمیٹی نے غیر معیاری تعمیراتی میٹریل استعمال کرنے والے ذمہ دار افسران کے خلاف کارروائی اور تمام متعلقہ کیسز کی دوبارہ جانچ پڑتال کرانے کی ہدایت کردی۔
کمیٹی نے قرار دیا کہ اینٹوں کے معیار کی خلاف ورزی کے باوجود تعمیراتی کام کے مقررہ نرخوں میں کمی نہیں کی گئی، اس لیے غیر معیاری اینٹوں کے استعمال پر واجب الادا رقم کی ریکوری یقینی بنائی جائے۔
محکمہ کی جانب سے کمیٹی کو بتایا گیا کہ بعض رقوم وصول کی جاچکی ہیں اور ریکوری کی رقم کی آڈٹ سے بھی تصدیق ہوچکی ہے۔ آڈٹ کے مطابق ایک کیس میں 43 لاکھ 89 ہزار روپے کی ریکوری کی گئی۔
پی اے سی نے ہدایت کی کہ ریکوری کی رقم محکمانہ اکاؤنٹس میں درست طور پر درج کی جائے اور ماہانہ اکاؤنٹنگ یقینی بنائی جائے۔ ریکوری کی رقم کی حسابات میں منتقلی اور اندراج میں کسی قسم کی تاخیر نہ کرنے کی بھی ہدایت کی گئی۔
کمیٹی نے اس امر پر بھی تشویش کا اظہار کیا کہ لیبارٹری رپورٹس موجود ہونے کے باوجود کمزور اور مقررہ سائز سے چھوٹی اینٹیں تعمیراتی منصوبوں میں استعمال کی گئیں۔
پی اے سی نے تعمیراتی منصوبوں میں استعمال ہونے والے میٹریل کی کوالٹی جانچنے کے نظام کو مزید مؤثر بنانے کی ہدایت بھی کردی۔

