شانگلہ الپوری(الفجرآن لائن) وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی اور وفاقی وزیر برائے سمندر پار پاکستانیز و انسانی وسائل کی ترقی چوہدری سالک حسین کی خصوصی ہدایات پر سانحہ سورینج کول مائن بلوچستان میں جاں بحق ہونے والے 34 کان کنوں کے لواحقین میں فی خاندان پانچ، پانچ لاکھ روپے کے امدادی چیکس تقسیم کیے گئے۔ امدادی چیکس بلوچستان حکومت کی جانب سے شہداء کے لواحقین کے لیے پیش کیے گئے۔
اس سلسلے میں شانگلہ الپوری میں ایک تعزیتی و امدادی تقریب منعقد ہوئی، جس میں بلوچستان سے آئے ہوئے معزز حکام، سیاسی و سماجی شخصیات، ورکرز ویلفیئر فنڈ کے نمائندگان، منتخب اراکین اسمبلی اور شہداء کے لواحقین نے شرکت کی۔ تقریب کے دوران سانحہ سورینج کے شہداء کے ایصالِ ثواب کے لیے دعا کی گئی اور ان کے اہل خانہ سے دلی ہمدردی اور تعزیت کا اظہار کیا گیا۔تقریب سے سیکرٹری ورکرز ویلفیئر فنڈ اسلام آباد جناب ذوالفقار احمد، خیبر پختونخوا پاکستان مسلم لیگ (ق) کے صدر جناب انتخاب خان چمکنی، ابراہیم مینگل، مشتاق جعفر، گورننگ باڈی اسلام آباد کے ممبر پیر محمد کاکڑ، عدنان امیر مقام اور رکن صوبائی اسمبلی شانگلہ ارشاد خان نے خطاب کیا۔سیکرٹری ورکرز ویلفیئر فنڈ اسلام آباد جناب ذوالفقار احمد نے اپنے خطاب میں سانحہ سورینج کو ایک انتہائی افسوسناک اور بڑا سانحہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ مائنز ورکرز ملک کی معیشت میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتے ہیں۔ یہ محنت کش انتہائی دشوار اور خطرناک حالات میں اپنی جانیں خطرے میں ڈال کر ملکی معیشت کے لیے خدمات انجام دیتے ہیں، اس لیے ان کی جان و مال کا تحفظ ریاست اور متعلقہ اداروں کی بنیادی ذمہ داری ہے۔انہوں نے کہا کہ سانحہ سورینج میں اگر کسی قسم کی غفلت یا کوتاہی سامنے آئی ہے تو غفلت کے مرتکب افراد کو انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے گا اور قانون کے مطابق قرار واقعی سزا دی جائے گی۔
ذوالفقار احمد نے کہا کہ وہ وفاقی وزیر برائے سمندر پار پاکستانیز و انسانی وسائل کی ترقی چوہدری سالک حسین کی ہدایت پر شہداء کے لواحقین سے اظہارِ تعزیت اور ان کے دکھ میں شریک ہونے کے لیے یہاں حاضر ہوئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ حکومت شہداء کے خاندانوں کو تنہا نہیں چھوڑے گی اور ان کے مسائل کے حل کے لیے ہر ممکن اقدامات کیے جائیں گے۔انہوں نے مزید کہا کہ مائنز ورکرز اور ان کے لواحقین کے ساتھ مل کر موجودہ قوانین کا جائزہ لیا جائے گا اور وقت کی ضرورت کے مطابق ایسی ترامیم متعارف کرانے کی کوشش کی جائے گی جن سے کان کنوں کے حقوق، تحفظ اور فلاح و بہبود کو مزید یقینی بنایا جا سکے۔سیکرٹری ورکرز ویلفیئر فنڈ نے خصوصی طور پر اعلان کیا کہ سانحہ سورینج کے شہداء کے بچوں کی تعلیم اور دیگر ضروری تعلیمی اخراجات ورکرز ویلفیئر فنڈ برداشت کرے گا، جبکہ انہیں اعلیٰ اور معیاری تعلیمی اداروں میں تعلیم کے مواقع فراہم کرنے کے لیے بھی اقدامات کیے جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ شہداء کے بچوں کا مستقبل محفوظ بنانا حکومت اور ورکرز ویلفیئر فنڈ کی ترجیحات میں شامل ہے
تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ابراہیم مینگل ایڈیشنل سیکرٹری مائنز اینڈ منرلز بلوچستان نے کہا کہ سانحہ سورینج میں ملوث اور ذمہ دار افراد کے خلاف قانونی کارروائی کا آغاز کیا جا چکا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ واقعے کے حوالے سے ایف آئی آر درج کی گئی ہے جبکہ وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کی ہدایت پر تشکیل دی گئی اعلیٰ سطحی انکوائری کمیٹی نے معاملے کی تحقیقات کرتے ہوئے ذمہ دار قرار دیے جانے والے افراد کے خلاف کارروائی عمل میں لائی ہے۔انہوں نے کہا کہ آج ہم یہاں صرف امدادی چیکس تقسیم کرنے کے لیے نہیں بلکہ شہداء کے لواحقین کے غم میں شریک ہونے اور ان کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کرنے کے لیے بھی موجود ہیں۔ انہوں نے سانحہ سورینج کے تمام شہداء کے ورثاء سے دلی تعزیت کرتے ہوئے کہا کہ حکومت ان کے دکھ اور مشکلات کو پوری طرح محسوس کرتی ہے۔مشتاق جعفر کمشنر کمپینسیشن ورک مین بلوچستان نے اپنے خطاب میں بلوچستان حکومت کی جانب سے شہداء کے لواحقین کے ساتھ گہری ہمدردی اور یکجہتی کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعلیٰ بلوچستان کی خصوصی ہدایت پر وہ شہداء کے خاندانوں کے غم میں شریک ہونے کے لیے شانگلہ آئے ہیں۔انہوں نے کہا کہ حکومت کی جانب سے دی جانے والی مالی امداد اگرچہ متاثرہ خاندانوں کی کچھ ضروریات پوری کرنے میں معاون ثابت ہو سکتی ہے، تاہم کسی بھی مالی امداد کو انسانی جان کے نقصان کا نعم البدل قرار نہیں دیا جا سکتا۔ انہوں نے کہا کہ اصل ضرورت اس امر کی ہے کہ مستقبل میں ایسے المناک واقعات کی روک تھام کے لیے مؤثر اور عملی اقدامات کیے جائیں۔
گورننگ باڈی کے رکن پیر محمد کاکڑ نے کہا کہ وہ مائن ورکرز کے ساتھ کھڑے ہیں اور اس وقت تک ان کے ساتھ کھڑے رہیں گے جب تک انہیں انصاف نہیں ملتا۔ انہوں نے کہا کہ سانحہ سورینج اپنی نوعیت کا پہلا واقعہ نہیں بلکہ ماضی میں بھی کان کنی کے دوران ایسے کئی المناک واقعات رونما ہو چکے ہیں جن میں قیمتی انسانی جانیں ضائع ہوئی ہیں۔انہوں نے کہا کہ ضرورت اس امر کی ہے کہ مائنز سے متعلق قوانین کو مزید مؤثر اور سخت بنایا جائے اور حفاظتی ضوابط پر عمل درآمد کو یقینی بنایا جائے تاکہ غفلت یا لاپرواہی کے مرتکب افراد کسی صورت قانون کی گرفت سے نہ بچ سکیں۔انہوں نے کہا کہ کان کنوں کی زندگیوں کا تحفظ صرف ایک انتظامی معاملہ نہیں بلکہ انسانی حقوق اور ریاستی ذمہ داری کا اہم تقاضا ہے۔عدنان امیر مقام نے بلوچستان سے آئے ہوئے معزز مہمانوں کا شانگلہ آمد، شہداء کے لواحقین سے اظہارِ تعزیت اور ان کے دکھ میں شریک ہونے پر شکریہ ادا کیا۔انہوں نے کہا کہ پاکستان مسلم لیگ (ن) کی حکومت ملک کے غریب، محنت کش اور مزدور طبقے کے ساتھ کھڑی ہے اور ان کی فلاح و بہبود کے لیے ہر ممکن اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کا مقصد صرف مالی امداد فراہم کرنا نہیں بلکہ مزدوروں اور ان کے خاندانوں کو ایک محفوظ اور باوقار مستقبل فراہم کرنا بھی ہے۔رکن صوبائی اسمبلی شانگلہ ارشاد خان نے کہا کہ شانگلہ کے مائن ورکرز کے مسائل، ان کے حقوق اور ان کی فلاح و بہبود کے حوالے سے ایک خصوصی کنونشن منعقد کیا جائے گا، جس میں مائن ورکرز، ان کے نمائندگان، متعلقہ حکام اور دیگر اسٹیک ہولڈرز کو مدعو کیا جائے گا۔انہوں نے کہا کہ کنونشن میں مائن ورکرز کو درپیش مسائل اور ان کے حل کے لیے قابلِ عمل تجاویز مرتب کی جائیں گی اور طے پانے والے نکات پر باہمی اتفاقِ رائے سے عملی طور پر کام کیا جائے گا۔
تقریب کے اختتام پر بلوچستان سے آئے ہوئے معزز مہمانوں اور سیکرٹری ورکرز ویلفیئر فنڈ اسلام آباد جناب ذوالفقار احمد کی موجودگی میں سانحہ سورینج کے 34 شہداء کے لواحقین کے لیے پانچ، پانچ لاکھ روپے مالیت کے تمام امدادی چیکس ڈپٹی کمشنر پیر عبداللہ کے حوالے کیے گئے تاکہ انہیں مستحق خاندانوں تک پہنچایا جا سکے۔اس موقع پر ڈپٹی کمشنر پیر عبداللہ نے بلوچستان حکومت، وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی، وفاقی وزیر چوہدری سالک حسین، سیکرٹری ورکرز ویلفیئر فنڈ ذوالفقار احمد اور دیگر تمام متعلقہ حکام کا خصوصی شکریہ ادا کیا کہ انہوں نے سانحہ سورینج کے شہداء کے لواحقین کے ساتھ اظہارِ یکجہتی کیا اور ان کی مالی معاونت کے لیے عملی قدم اٹھایا۔

