
پشاور (الفجرآن لائن) حکومتِ پاکستان کے بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کی چیئرپرسن سینیٹر روبینہ خالد نے پشاور میں صوبائی انتظامیہ اور محکمہ صحت کے اعلیٰ حکام سے اہم ملاقاتیں کی ہیں، جن میں سماجی تحفظ کے پروگراموں کو مزید مؤثر بنانے، ڈیٹا کی باہمی شیئرنگ اور انسانی ترقی کے اقدامات پر مل کر کام کرنے پر اتفاق کیا گیا ہے۔ پریس ریلیز نمبر 78 کے مطابق، ان ملاقاتوں کا بنیادی مقصد بی آئی ایس پی اور خیبرپختونخوا کے صوبائی محکموں کے درمیان کوآرڈینیشن کو مضبوط بنانا اور وسائل کے درست استعمال کو یقینی بنانا ہے۔
پہلی اہم ملاقات میں چیئرپرسن بی آئی ایس پی نے ایڈیشنل چیف سیکرٹری خیبرپختونخوا لیفٹیننٹ (ر) اسلام زیب سے گفتگو کی۔ اس موقع پر نیشنل سوشو اکنامک رجسٹری کے ڈیٹا کی شیئرنگ، بینظیر ہنرمند پروگرام کے تحت مستحق خاندانوں کے بچوں کے لیے سکل ٹریننگ (تکنیکی مہارتوں کی تربیت) اور بینظیر نشوونما پروگرام سمیت دیگر اہم امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ سینیٹر روبینہ خالد کا کہنا تھا کہ صوبائی محکموں کے ساتھ ڈیٹا شیئرنگ سے مستحق افراد کی درست نشاندہی ہوگی اور پروگراموں کے فوائد براہِ راست حقداروں تک پہنچیں گے۔بعد ازاں، سینیٹر روبینہ خالد نے صوبائی وزیر صحت خلیق الرحمن اور سیکرٹری صحت خیبرپختونخوا فیاض علی شاہ سے ملاقات کی، جس میں ڈائریکٹر جنرل بی آئی ایس پی خیبرپختونخوا الف جان آفریدی بھی موجود تھے۔ اس نشست میں ماں اور بچے کی صحت، غذائیت کی فراہمی، اور بچوں میں غذائی کمی کے باعث پیدا ہونے والے سٹنٹنگ یعنی نشوونما میں کمی کے مسائل پر تفصیلی بات چیت کی گئی۔ صوبائی وزیر صحت اور سیکرٹری صحت نے بینظیر نشوونما پروگرام کے مؤثر نفاذ کے لیے بی آئی ایس پی کو محکمہ صحت کی جانب سے ہر ممکن تعاون جاری رکھنے کی یقین دہانی کرائی


