کیمبرج پیپر لیک اسکینڈل، 80 ممالک متاثر، پاکستان کیلئے خصوصی پرچے تیار کرنے کا فیصلہ، فیسوں اور ٹیکس معاملات کی بھی جانچ پڑتال ہوگی
اسلام آباد(الفجرآن لائن)قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے تعلیم کے اجلاس میں کیمبرج کے امتحانی پرچوں کے لیک ہونے کے معاملے پر اہم انکشافات سامنے آئے ہیں۔ چیئرمین کمیٹی انجم عقیل خان نے سوال کیا کہ کیمبرج کے پیپرز کتنے سالوں سے لیک ہو رہے ہیں؟ جس پر ایگزیکٹو ڈائریکٹر آئی بی سی سی نے بتایا کہ گزشتہ تین سالوں سے پیپرز لیک ہونے کے واقعات سامنے آئے ہیں۔ممبر کمیٹی نے کہا کہ پیپرز لندن سے لیک نہیں ہوئے بلکہ پاکستان سے لیک ہوئے ہیں۔ تاہم ایگزیکٹو ڈائریکٹر آئی بی سی سی کے مطابق وزارت داخلہ کے ذریعے این سی سی آئی اے کو معاملے کی تحقیقات کی ہدایت کی گئی، جس پر ایجنسی نے بتایا کہ پاکستان سے پیپر لیک نہیں ہوا۔
ای ڈی آئی بی سی سی نے بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ 29 اپریل کو پیپر لیک ہونے کی اطلاع ملتے ہی کیمبرج کو ای میل کی گئی اور اسی سیریز کے دو منسوخ شدہ پیپرز دوبارہ لینے کا مطالبہ کیا گیا، جس سے طلبہ کو نقصان سے بچایا گیا۔انہوں نے بتایا کہ کیمبرج نے تسلیم کیا کہ پیپر لیک کے معاملے سے 80 ممالک متاثر ہوئے ہیں۔ کیمبرج نے دو پیپرز میں طلبہ کو اوسط مارکس دیے، جبکہ معاملے کی تحقیقات کے لیے ڈی جی آئی بی سی سی عثمان خان کی سربراہی میں کمیٹی تشکیل دی گئی۔ای ڈی آئی بی سی سی کے مطابق پاکستان کے لیے خصوصی پیپرز تیار کیے جا رہے ہیں، جو امتحان سے کچھ دیر قبل پاکستان کو ای میل کے ذریعے بھجوائے جائیں گے۔ کیمبرج کا مؤقف تھا کہ پیپر لیک نہیں بلکہ چوری ہوئے تھے

