کوئٹہ(الفجرآن لائن) وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے نوشکی کے علاقے کلی جمال آباد میں انسدادِ پولیو ٹیم کی سکیورٹی پر مامور پولیس اہلکاروں پر نامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ کے نتیجے میں دو پولیس اہلکاروں کی شہادت پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے محکمہ داخلہ بلوچستان سے رپورٹ طلب کر لی ہے وزیر اعلیٰ میر سرفراز بگٹی نے کہا کہ انسدادِ پولیو ٹیموں کی سکیورٹی پر مامور اہلکاروں کو نشانہ بنانا انتہائی افسوسناک اور قابلِ مذمت واقعہ ہے۔ شہید پولیس اہلکار اپنی ذمہ داریاں انجام دیتے ہوئے جانوں کا نذرانہ پیش کر گئے، ان کی قربانی کو قدر کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔
انہوں نے شہید پولیس اہلکاروں کے اہلخانہ سے دلی ہمدردی اور تعزیت کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ دکھ کی اس گھڑی میں سوگوار خاندانوں کے غم میں برابر کے شریک ہیں۔ وزیر اعلیٰ نے کہا کہ پولیس اہلکاروں نے فرائض کی ادائیگی کے دوران اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا، جس پر انہیں خراجِ عقیدت پیش کرتے ہیں۔ میر سرفراز بگٹی نے کہا کہ واقعے کے محرکات اور اس میں ملوث عناصر کا تعین کرنے کے لیے پولیس کی جانب سے تحقیقات جاری ہیں۔ متعلقہ ادارے واقعے کے تمام پہلوؤں کا جائزہ لے رہے ہیں اور تحقیقات کی روشنی میں مزید حقائق سامنے آئیں گے۔ وزیر اعلیٰ نے کہا کہ انسدادِ پولیو مہم بچوں کو ایک خطرناک بیماری سے محفوظ رکھنے کی قومی کاوش ہے، اس مہم سے وابستہ ٹیموں کی حفاظت انتہائی اہم ہے۔ انہوں نے شہید پولیس اہلکاروں کے درجات کی بلندی اور سوگوار خاندانوں کے لیے صبرِ جمیل کی دعا کی۔

