اسلام آباد (الفجرآن لائن) تحریک انصاف کے رہنماؤں کی جانب سے 27 ستمبر کے احتجاج کے تناظر میں تربیلا اور ورسک ڈیم سے بجلی کی فراہمی اور کرک سے گیس کی ترسیل روکنے سے متعلق بیانات سامنے آنے کے بعد سیاسی حلقوں میں بحث تیز ہوگئی ہے۔
پی ٹی آئی کے رکن صوبائی اسمبلی فضل الٰہی اور رکن قومی اسمبلی اقبال آفریدی کی جانب سے دیے گئے بیانات میں وفاق پر سیاسی دباؤ بڑھانے کے لیے توانائی کے وسائل کو استعمال کرنے کی بات کی گئی ہے، جس پر مختلف حلقوں نے تشویش کا اظہار کیا ہے۔
پی ٹی آئی کے ایم پی اے فضل الٰہی اور ایم این اے اقبال آفریدی نے ایک ویڈیو بیان میں 27 ستمبر کو تربیلا اور ورسک ڈیم سے بجلی کی فراہمی روکنے کی دھمکی دی۔
دونوں رہنماؤں کے بیانات کے بعد اس اقدام کے ممکنہ اثرات اور سیاسی و انتظامی مضمرات پر سوالات اٹھائے گئے ہیں۔
فضل الٰہی نے اپنے بیان میں کہا کہ ان کے پاس موجود مختلف آپشنز میں ڈیموں سے بجلی کی فراہمی روکنا بھی شامل ہے اور اگر کارکن اس حکمت عملی پر عمل کریں جبکہ صوبائی حکومت تعاون کرے تو سیاسی دباؤ بڑھایا جاسکتا ہےرکن قومی اسمبلی اقبال آفریدی نے بھی فضل الٰہی کے بیان کی تائید کرتے ہوئے اسے عملی جامہ پہنانے کا عندیہ دیا۔
دونوں ارکان اسمبلی کے بیانات کے بعد یہ سوال بھی سامنے آیا ہے کہ وفاقی تنصیبات اور توانائی کے وسائل کو سیاسی مطالبات کے لیے دباؤ کے طور پر استعمال کرنے کی صورت میں صوبائی اور وفاقی حکومتوں کا ممکنہ ردعمل کیا ہوگا۔
تجزیہ کاروں نے ان بیانات کو سنگین معاملہ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ قومی سطح کی توانائی تنصیبات کو سیاسی احتجاج سے جوڑنے سے نہ صرف وفاق اور صوبے کے درمیان کشیدگی بڑھ سکتی ہے بلکہ بجلی کی فراہمی اور شہریوں کی معمول کی زندگی بھی متاثر ہونے کا خدشہ پیدا ہوسکتا ہے۔
تجزیہ کاروں کی جانب سے یہ رائے بھی سامنے آئی ہے کہ اگر وفاقی تنصیبات یا توانائی کی فراہمی میں رکاوٹ ڈالنے کی عملی کوشش کی گئی تو حکومت کے سامنے سخت انتظامی اقدامات کا سوال پیدا ہوسکتا ہے۔
تاہم گورنر راج کے نفاذ سے متعلق کوئی حتمی حکومتی فیصلہ اس حوالے سے سامنے نہیں آیا

