اسلام آباد (الفجرآن لائن) چیئرپرسن بینظیر انکم سپورٹ پروگرام (بی آئی ایس پی) سینیٹر روبینہ خالد نے بی آئی ایس پی ہیڈکوارٹرز میں آفیشل فیس بک اکاؤنٹ کے ذریعے ایک لائیو ای-کچہری کا انعقاد کیا۔ اس عوامی رابطے کی مہم کے دوران ملک بھر سے 31 سائلین نے ٹیلی فون کے ذریعے چیئرپرسن کو اپنے مسائل اور شکایات سے براہ راست آگاہ کیا۔ سینیٹر روبینہ خالد نے عوامی مسائل پر فوری ایکشن لیتے ہوئے متعلقہ افسران کو سخت ہدایات جاری کیں کہ ای-کچہری میں موصول ہونے والی تمام شکایات کو ترجیحی بنیادوں پر حل کر کے ان کی فوری رپورٹ پیش کی جائے۔
ای-کچہری سے خطاب کرتے ہوئے چیئرپرسن بی آئی ایس پی کا کہنا تھا کہ صدر پاکستان آصف علی زرداری اور وزیر اعظم محمد شہباز شریف کی خصوصی ہدایات پر مستحق خواتین تک امدادی رقم کی محفوظ اور شفاف منتقلی کے لیے ‘ڈیجیٹل والٹ’ کا جدید نظام شروع کیا گیا ہے۔ یہ نظام حکومتِ پاکستان کی جانب سے خواتین بینیفشریز کے لیے ایک تحفہ ہے، جس کے تحت ادائیگیوں میں ‘انٹرآپریبلٹی’ کا نظام متعارف کرایا جا رہا ہے۔ اب مستحق خواتین کسی ایک مخصوص شہر یا کسی ایک بینک کے ریٹیلر تک محدود نہیں رہیں گی، بلکہ ملک کے کسی بھی شہر میں کسی بھی وقت چھ بڑے پارٹنر بینکوں کے مجاز ریٹیلرز سے اپنی رقم وصول کر سکیں گی۔ ان پارٹنر بینکوں میں ایچ بی ایل (HBL)، حبیب مائیکروفنانس، بینک الفلاح، ٹیلینار مائیکروفنانس، بینک آف پنجاب اور موبلنک/جاز بینک شامل ہیں۔
سینیٹر روبینہ خالد نے مستحق خواتین کو دھوکہ دہی سے بچانے کے لیے اہم ہدایات جاری کرتے ہوئے کہا کہ وہ اپنی مفت ‘بینظیر سم’ صرف اور صرف بی آئی ایس پی کے سرکاری دفتر سے حاصل کریں۔ سم کے حصول کے لیے اصل شناختی کارڈ اور ذاتی موبائل فون ساتھ لانا لازمی ہے، اور کسی بھی غیر مجاز ریٹیلر یا فرنچائز سے سم حاصل نہ کی جائے۔ انہوں نے واضح کیا کہ سم کی ایکٹیویشن بی آئی ایس پی کی مقررہ سائٹ پر متعلقہ موبائل کمپنی کا نمائندہ خود کرے گا۔ مزید برآں، چیئرپرسن نے خواتین کو تاکید کی کہ رقم وصول کرتے وقت اپنا موبائل فون کسی ریٹیلر یا ایجنٹ کے حوالے نہ کریں اور رقم کی منتقلی اور نکلوائی کے بعد موصول ہونے والے دونوں تصدیقی ایس ایم ایس (SMS) اپنے پاس محفوظ رکھیں۔
چیئرپرسن نے شناختی کارڈ اور سروے کے حوالے سے اہم معلومات دیتے ہوئے کہا کہ جن خواتین کے شناختی کارڈز کی مدت ختم ہو چکی ہے، وہ فوری طور پر نادرا (NADRA) سے اپنے کارڈز کی تجدید کروائیں تاکہ وظائف کی وصولی میں کوئی رکاوٹ نہ آئے۔ انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ بی آئی ایس پی سروے کا مقصد گھرانے کی اہلیت کا تعین کرنا ہے اور ایک مرتبہ سروے ہونے کے بعد دو سال سے پہلے دوبارہ سروے نہیں کیا جا سکتا۔ لہٰذا، مستحقین بار بار سروے کے لیے دفاتر کے چکر کاٹ کر اپنا وقت ضائع نہ کریں۔ رقم کی وصولی کے لیے اصل شناختی کارڈ کی موجودگی اور بائیومیٹرک تصدیق کا ہونا لازمی شرط ہے

