ہم دہشت گرد نہیں، دہشت گردی کاخود نشانہ بنے ہیں، ایرانی صدر کا اقوام متحدہ میں مؤقف، اسکول حملے میں ہلاک بچوں کی تصاویر بھی دکھا دیں
ایران نے صرف اپنا دفاع کیا، جنگ سے نہیں ڈرتے اور امن کے لیے مذاکرات سے بھی نہیں بھاگیں گے،پزشکیان کا دوٹوک اعلان
نیویارک(الفجرآن لائن) ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81ویں اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے امریکا اور اسرائیل کی ایران کے خلاف فوجی کارروائیوں کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا ہے کہ ایران نے اپنے دفاع کے سوا کوئی اقدام نہیں کیا۔ انہوں نے واضح کیا کہ ایران دباؤ یا فوجی کارروائی کے نتیجے میں سرنڈر نہیں کرے گا اور پرامن مقاصد کے لیے جوہری ٹیکنالوجی اور یورینیم افزودگی کے اپنے حق سے دستبردار نہیں ہوگا۔ پزشکیان نے اپنی تقریر کا آغاز ایران میں ہونے والے حالیہ حملوں اور ان کے نتیجے میں شہریوں کی ہلاکتوں کا ذکر کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے کہا کہ امریکی صدر نے ایران کو دہشت گرد قرار دیا، تاہم ان کے بقول حقیقت یہ ہے کہ ایرانی عوام خود دہشت گردی کا نشانہ بنے ہیں۔ ایرانی صدر نے جنرل اسمبلی میں ایک اسکول پر ہونے والی بمباری کا حوالہ بھی دیا اور ہلاک ہونے والے بچوں کی تصاویر ایوان میں دکھائیں۔ انہوں نے کہا کہ ان بچوں نے کوئی جرم نہیں کیا تھا اور نہ ہی وہ کسی فوجی کارروائی کا حصہ تھے۔ پزشکیان کے مطابق یہ بچے امریکی اور اسرائیلی حملوں میں مارے گئے۔
انہوں نے کہا کہ ایران ایسے ملک کی نمائندگی کر رہا ہے جس نے جنگ کے دوران اپنے شہریوں، خواتین، بچوں اور سائنس دانوں کو کھویا۔ ایرانی صدر نے امریکی اور اسرائیلی کارروائیوں کو ایران کے خلاف جارحیت قرار دیتے ہوئے کہا کہ ان حالات میں ایران کا ردعمل دفاعی نوعیت کا تھا۔ پزشکیان نے اپنے خطاب میں ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی ہلاکت کا بھی حوالہ دیا اور کہا کہ وہ ایسے ایران سے آئے ہیں جہاں ملک کے رہنما کو بھی نشانہ بنایا گیا۔ یہ بیان ان کی تقریر کے اس حصے میں سامنے آیا جس میں وہ ایران کے خلاف ہونے والی کارروائیوں اور اس کے نتیجے میں پیدا ہونے والے قومی صدمے کو اجاگر کر رہے تھے۔ایرانی صدر نے جوہری پروگرام کے معاملے پر بھی واضح مؤقف اختیار کیا
۔ انہوں نے کہا کہ ایران جوہری ہتھیار حاصل کرنے کا ارادہ نہیں رکھتا، تاہم تہران اپنے پرامن جوہری پروگرام اور یورینیم افزودگی کے حق پر سمجھوتہ قبول نہیں کرے گا۔ پزشکیان کے مطابق ایران کا جوہری پروگرام پرامن مقاصد کے لیے ہے اور کسی بیرونی دباؤ کے تحت ایران کو اس حق سے محروم نہیں کیا جا سکتا۔ ان کا یہ مؤقف اس وقت سامنے آیا ہے جب ایران اور امریکا کے درمیان جوہری پروگرام اور جنگ کے خاتمے سمیت متعدد معاملات پر شدید اختلافات برقرار ہیں۔ ایرانی صدر نے جنگ کے حوالے سے سخت زبان استعمال کرنے کے ساتھ ساتھ مذاکرات کا دروازہ بھی کھلا رکھنے کا اشارہ دیا۔

